کورونا وائرس نے سب کچھ بدل کررکھ دیا، اس کی وجہ سے نافذ لاک ڈائون نے پوری دنیا کے معمولات تبدیل کر دیئے ہیں۔معمولات زندگی میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے غور و فکر کا زاویہ بھی بدل گیا ہے۔ اب کوئی کسی سے مصافحہ نہیں کرتا، اب کوئی کسی سے بغل گیر نہیں ہوتا۔مہمان نوازی کی روایت تو بالکل اٹھ ہی گئی ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ رابط کاری کا انداز بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا۔میٹنگیں اوراجلاسات آن لائن ،تعلیم آن لائن اب خریداری بھی آن لائن ہوگئی۔حد تو یہ ہے کہ عبادتوں کا طریقہ بھی بدل گیا ہے۔ حالانکہ عبادت ایک ایسی چیز رہی ہے کہ اس میں ذرہ برابر تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن آج حالات کے تقاضے نے عبادت کے طریقے میں بھی بنیادی تبدیلیاں کر دی ہیں۔اہل ایمان کے لئے جوتکلیف دہ معاملہ ہے کہ عبادات کاقرینہ بھی بدل گیا۔کئی ماہ سے طواف کعبہ نہیں ہورہااورروضہ رسولؐ پردرووسلام پیش کرنے والے اہل ایمان حاضرنہیں ہورہے ۔مسجدالحرام ،مسجد النبوی اوروئے زمین پرقائم مساجد میں معمول کے مطابق روح پرورپنجگانہ باجماعت ہورہی ہے اورنہ ماہ صیام میںتراویح پڑھی جارہی ہے ۔ جس طرح حرمین الشریفین میں چندلوگ ہی ائمہ کی اقتدامیں تراویح پڑھتے ہیں،یہی صورتحال روئے زمین پرقائم مساجد کی ہے ،ہاں البتہ پاکستان سمیت کئی علاقوں میں اگرچہ اس حوالے سے سینہ زوری کی جارہی ہے البتہ دیکھایہ گیاہے کہ حکومت اورعلماء کرام کے مابین طے شدہ فارمولے کے تحت اکثرمساجد میں عمل درآمدہورہاہے۔ کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں نافذ لاک ڈائون نے اس ماہ کی عبادتوں اور اس کے معمولات کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ کبھی رمضان المبارک میں لوگ مسجدوں میں نہیں جائیں گے بلکہ گھروں میں نماز اور تراویح کا اہتمام کریں گے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ مسجدوں میں زیادہ سے زیادہ حاضری کی تلقین کرنے والے اب سختی کے ساتھ یہ درخواست کریں گے کہ مسجدوں کا رخ نہ کریں۔کیا کسی نے سوچا تھا کہ رمضان المبارک میں نماز تراویح کے دوران قرآن مجید مکمل کرنے ’’پڑھنے یا سننے ‘‘سے بھی ایک بہت بڑی اکثریت محروم ہو جائے گی۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ اگر کہیں مسجدوں میں لوگ اکٹھا بھی ہوں گے تو بالکل نئے طریقے سے۔ یعنی مل مل کر صف بندی کرنے کے بجائے چھ چھ فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہوں گے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ نماز میں مل مل کر کھڑے ہونے کی تلقین کے بجائے دور دور کھڑے ہونے کی تلقین کی جائے گی۔ ایسی بہت سی انہونی باتیں ہیں جو اس رمضان میں ہو رہی ہیں۔ علمائے کرام و مفتیان عظام نے ایک اپیل جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ لاک ڈاون کے دوران مسجدوں کا رخ نہ کریں بلکہ اپنے اپنے گھروں میں نماز تراویح کا اہتمام کریں۔ پاس پڑوس کے گھروں سے لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔بازاروں میں جانے سے حتی الامکان بچیں اور خاص طور پر افطاری سے قبل خریداری کی بھیڑ سے گریز کریں۔ رمضان کی راتوں میں ادھر ادھر گھومنے سے سختی سے پرہیز کیا جائے۔ اعتکاف رمضان المبارک کی ایک خاص عبادت ہے۔ لوگ آخری عشرے میں دنیا جہان سے کٹ کر مسجدوں میں گوشہ تنہائی میں رہتے ہیں اور اپنے رب کی زیادہ سے زیادہ عبادت کرتے ہیں۔ اس رمضان میں گھروں میں اعتکاف کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ لاک ڈائون کی وجہ سے نہ کوئی کسی کے ہاں جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی کسی کو اپنے ہاں مدعو کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ رشتے داروں کا رویہ بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ اب کوئی کسی کو پہچانتا نہیں۔ یہ تو بالکل میدان حشر جیسی کیفیت ہوئی کہ جہاں نہ تو والدین اپنی اولاد کو پہچانیں گے او نہ ہی اولاد اپنے والدین کو۔ نہ ماں اپنے بچے کو نہ بچہ اپنی ماں کو۔ کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہوگا۔ آج کچھ اسی طرح کی صورت حال ہے کہ کوئی کسی کی پرسش کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اگر کوئی دوست کسی مصیبت میں ہے تو کوئی دوڑ کر اس کی اشک شوئی کرنے نہیں جاتا۔ چونکہ انسانی جان کی قیمت سب سے زیادہ ہے اور جان جانے کا خطرہ ہو تو حرام شے بھی کم از کم اتنی کھانے کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ جان بچ جائے۔ اسی جان کو بچانے کے لیے عبادت کے طریقے میں زبردست تبدیلی کی جا رہی ہے۔ ادھر بعض دوسرے ممالک میں جہاں رمضان میں مسجدوں میں جانے کی اجازت دی گئی ہے وہیں بہت سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں نماز تراویح کا اہتمام مسجدوں میں تو ہوگا لیکن سماجی فاصلے کے اصول کو قائم رکھنے کے ساتھ۔ لوگ دور دور کھڑے ہوں گے۔ دو نمازیوں کے درمیان دو نمازیوں کے کھڑے ہونے کی جگہ چھوڑنی ہوگی۔ اس سلسلے میں ایک چارٹ جاری کیا گیا ہے۔مسجدوں اور امام بارگاہوں میں قالین اور دریاں اٹھا دی جائیں گی تاکہ لوگوں کی سانس ان میں جذب ہو کر دوسروں کو متاثر نہ کرے۔ چٹائیاں بچھائی جا سکتی ہیں۔ فرش کی جراثیم کش ادویات سے اچھی طرح دھلائی کی جائے گی۔ پچاس سال سے اوپر اور دس سال سے کم کے لوگوں کو مسجدوں میں آنے پر پابندی ہوگی۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے وضو کرکے آئیں۔ مسجد میں نہ تو کسی سے مصافحہ کریں نہ معانقہ۔ بعد نماز گروپ بنا کر نہ بیٹھیں بلکہ نماز ختم ہوتے ہی فوری طور پر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جائیں۔ مسجدوں کے باہر بھیڑ نہ لگائیں۔ اگر مسجد یا امام بارگاہ میں صحن بھی ہے تو اندر نماز کی ادائیگی کے بجائے صحن میں ادائیگی کی جائے۔ اس طرح بیس نکات پر مشتمل ایک قرارداد جاری کی گئی ہے جس میں رمضان المبارک میں مسجدوں میں نماز کی ادائیگی کے طریقے بتائے گئے ہیں۔بعض دوسرے ممالک میں تو رمضان کے پہلے سے ہی سماجی فاصلے کے ساتھ نمازیں قائم کی جا رہی ہیں۔ یعنی امام کے پیچھے چھ فٹ کے بعد ایک نمازی کھڑا ہوگا اور جتنے بھی نمازی ہوں گے سب چھ چھ فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہو رہے ہیں۔ کیا کسی نے کبھی سوچا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا ہو رہا ہے اور کورونا وائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اللہ تعالی ہم تمام انسانوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اس بحرانی دور میں ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔