واشنگٹن( ندیم منظور سلہری سے ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو برطرف کرنے کا اعلان ٹوئٹر پر کرتے ہوئے کہا کہ جان بولٹن کو کہہ دیا تھا کہ وائٹ ہاؤس کو انکی خدمات کی ضرورت نہیں۔ اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ انہیں جان بولٹن کی بیشتر تجاویز سے شدید اختلاف تھا، اپنے دوسرے ٹویٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے جان بولٹن سے کل رات استعفیٰ طلب کیا تھا اور انہوں نے آج صبح اپنا استعفیٰ بھجوا دیا انہوں نے جان بولٹن کی خدمات پر انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے نئے قومی سلامتی کے مشیر کا اعلان کر دینگے جبکہ جان بولٹن نے صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کے جواب میں اپنے ٹوئٹر پیغام میں موقف اختیار کیا کہ انہوں نے پیر کی رات کو مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی جس پر صدر کا کہنا تھا کہ اس پر ہم کل بات کرینگے ۔ اپنے ایک اور ساتھی کے نام پیغام میں بھی یہی کہا کہ وہ اپنے استعفے کی وجوہات بعد میں کسی وقت بتائیں گے ۔امریکی تحقیقاتی ادارے سینٹر فار نیشنل انٹرسٹ کے سینئر ڈائریکٹر ہیری کازیانیز کا کہنا ہے کہ جان بولٹن کو عہدے سے ہٹانا ایک دیرینہ ضرورت تھی اور یہ ٹرمپ انتظامیہ کا ایک اچھا اقدام ہے ، جان بولٹن کے جانشین کے طور پر شمالی کوریا کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے سٹیفن بیگن اور ریٹائرڈ کرنل ڈگلس میک گریگر ممکنہ اُمیدوار ہو سکتے ہیں ۔