واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں ) امریکہ کے ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پر رائے شماری آج متوقع ہے ۔مواخذے کی تحریک میں صدر ٹرمپ پر اشتعال انگیزی اور فسادات پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ۔امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے قائم مقام وزیر چاڈ وولف نے استعفی دیدیا تاہم انہوں نے اس اقدام کی کوئی وضاحت نہیں کی ۔وولف نے گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے کانگریس کی عمارت پر المناک حملے پر تنقید کی تھی۔صدرٹرمپ نے واشنگٹن میں 24 جنوری تک ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پینس نے اوول آفس میں ملاقات کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جن لوگوں نے قانون کی خلاف ورزی کی اور دارالحکومت میں گذشتہ ہفتے طوفان برپا کیا وہ 75 ملین امریکیوں کی حمایت والی امریکہ فرسٹ تحریک کی نمائندگی نہیں کرتے ۔ انہوں نے مزید کہا وہ اقتدار کے آخری دن تک ملک کیلئے کام جاری رکھیں گے ۔ٹیکساس روانگی کے وقت گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مواخذہ کی تیاریوں کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا میں کسی قسم کا تشدد نہیں چاہتا۔میرے مواخذے کی کوشش سخت ناراضی کاباعث بن رہی ہے ۔امریکی میڈیا کا موقف ہے صدر ٹرمپ نے نہ صرف اپنے بیان کودرست قراردیا بلکہ انہوں نے تاحال بلوائیوں کو اکسانے پر ندامت کااظہاربھی نہیں کیا۔ایوانکا ٹرمپ نے جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی ہامی بھر لی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بیٹی کے فیصلے کو بدترین قرار دے دیا۔پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ 20 جنوری کو نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر 15 ہزار نیشنل گارڈز تعینات کئے جائیں گے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق گارڈز کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے ممکنہ ہنگامہ آرائی کے پیش نظر کیا گیا۔