لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پارلیمانی لیڈرز کانفرنس میں وزیراعظم کا کوئی شیڈولڈ ایجنڈا نہیں تھا انہیں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے شرکت کی درخواست کی جس پر انہوں نے سکائپ پرکانفرنس سے خطاب کیا حالانکہ وہ بہت مصروف تھے ۔پروگرام ہوکیارہاہے میں میزبان فیصل عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ شہبازشریف اوربلاول نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں ہے ،کرونا پورے پاکستان کا قومی ایشو ہے اس میں سب کو اپنا رول ادا کرنا ہے ، پارلیمنٹ کے اندر بیٹھی لیڈر شپ کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں ،دس سال تک انہوں نے ایک صوبے پر حکومت کی ہے ،35 سال سے وہ اپنے بھائی کے ساتھ ملکی سیاست میں اہم رول ادا کرتے رہے ہیں انہیں حالات کی نزاکت کا احساس ہوناچاہئے تھا ۔ بلاول تو ابھی اتنے تجربہ کار نہیں ہیں ،ہمیں کشادگی کا مظاہرہ کرناہوگا۔ وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں لاک ڈائون کے حوالے سے بڑی تفصیل سے بات کی ہے لیکن نیشنل کمیٹی کے اجلاس میں عسکری اورسیاسی قیادت مزید مشاورت کریگی، ہم میڈیا مالکان کی مشاورت سے میڈیاکے مسائل کو حل کرنے کی طرف بھی جارہے ہیں۔ جن میڈیا مالکان نے اپنے ورکرز کو تنخواہیں نہیں دی ہیں ان کی ادائیگی تک مالکان کو ان کے بقایاجات ادا نہیں کئے جائیں گے ۔ تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ آ ل پارٹیزپارلیمانی اجلاس میں ان کی بات نہیں سنی گئی ایسے وقت میں دونوں کو ایک پیج پرہوناچاہئے تھا۔صرف اپروچ کا فرق ہے وزیراعظم کو اپوزیشن کی بات سن لینی چاہئے تھی۔کروناوائرس ایک قومی آفت ہے اوروزیراعظم کو پہل کرنی چاہئے لیکن بدقسمتی سے وہ ایک ہونے کا نہیں سوچ رہے ہیں، ا نہیں چاہئے تھا کہ وہ اپوزیشن سے کرونا وائرس کے حوالے سے مشاورت کرتے ، بھارت میں 27کروڑ سے زائد انتہائی غریب لوگ ہیں لیکن اس کے باوجود ا نہوں نے پورے ملک میں لاک ڈائون کردیا ہے ۔