لاہور ( فورم رپورٹ : رانا محمد عظیم، محمد فاروق جوہری)معروف معالجین اور ماہر غذائیات نے قراردیا ہے کہ رمضان المبارک کے فوری بعد بیماریوں سے بچنے کیلئے کھانے میں اعتدال رکھنا بہت ضروری ہے ۔ روزنامہ 92 نیوز فورم سے گفتگو کرتے ہوئے معروف معالج پروفیسر ڈاکٹر ابرار اشرف نے کہا کہ رمضان کے فوری بعدزیادہ کھانا معدہ متاثر کر سکتا ہے ،بہت سے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں، ہمیں رمضان والے معمولات کو برقرار رکھنا چاہئے ۔ رمضان المبارک میں اللہ تعالی ہمیں ٹریننگ دیتا ہے کہ کھانے پینے میں اعتدال رکھیں،اگر فوری ہم زیادہ کھانا شروع کر دیں تو معدہ ا متاثر ہو جاتا ہے ، اسلئے رمضان کے بعد بھی ہمیں بیماریوں سے بچنے کیلئے کھانے میں اعتدال سے کام لینا چاہئے ۔ معروف معالج ڈاکٹر سلمان کاظمی نے کہا کہ رمضان کے فوری بعد ہم لوگ ایک دم سے اپنے معدہ پر زیادہ کھانے کا بوجھ ڈال لیتے ہیں جس کے نتیجہ میں ڈائیریا جیسی بیماری کا شکار ہو کرہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔گیسٹرو اور ڈائیریا کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے جس سے گردے بھی فیل ہو سکتے اسلئے خود احتیاط کرنی چاہئے ۔ آج کل جو پرائیوٹ ہسپتال کورونا کی وجہ سے بند ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں کورونا کے مریض ہیں تو لوگوں کو خود ہی کھانے پینے میں احتیاط کرنی چاہئے تاکہ ہسپتال جانا ہی نہ پڑے ۔ معروف ماہر غذائیات ڈاکٹر جویریہ محمود نے کہا کہ رمضان میں کم کھانے سے ہماری قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے ۔ رمضان کے بعد معدہ پر فوری بوجھ ڈالنا مناسب نہیں، اعتدال سے لیکن پروڑین سے بھرپور غذا کااستعمال کرنا چاہئے ۔جسم کی قوت مدافعت کو بہتر بنانے کیلئے سبزی اور پھلوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے ۔گوشت کا استعمال بھی سبزیوں کیساتھ کرنا چاہئے ۔ کھانے میں کم از کم چھ گھنٹے کا وقفہ بہت ضروری ہے اور دن میں دس سے بارہ گلاس پانی پینا چاہئے ۔ آج کل کورونا کا بھی مسئلہ ہے تو اس سے بچنے کیلئے تازہ پھلوں کے جوس کا استعمال انتہائی موثر ہے ۔