لاہور (فورم رپورٹ : رانا محمد عظیم ، محمد فاروق جوہری )ایف اے ٹی ایف کے اجلا س میں اگر میرٹ پر فیصلہ ہوتا تو پاکستان گرے لسٹ سے نکل سکتا تھا ، پا کستان کو دبائو میں رکھنے کیلئے گرے لسٹ میں رکھا گیا ، اگر ایف اے ٹی ایف کے فیصلے میرٹ پر ہوتے تو سب سے پہلے بھارت کو بلیک لسٹ کیا جاتا جس کے داعش کے ساتھ تعلقات ہیں اور جو دہشت گردوں کو فنڈنگ کر رہا ہے ، ان خیالا ت کا اظہار عسکری و خارجہ امور کے ماہرین نے روزنامہ92نیوز فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ یوکرائن میں پاکستان کے سفیر جنرل (ر)زاہد مبشر شیخ نے کہا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے میں شرارت کا بھی بڑا عمل دخل تھا، ابھی جو پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالا گیا اس کے پیچھے بھی مقاصد ہیں، پاکستان کو دبائو میں رکھنے ، اپنی مرضی کے کام کروانے کیلئے گرے لسٹ میں رکھا گیا ،یہ وہی ممالک ہیں جو پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنا چاہتے ہیں جن کو سی پیک کی تکلیف ہے ۔ جنرل (ر)امجد شعیب نے کہا کہ فیٹف کے اجلا س میں اگر میرٹ پر فیصلے کئے جاتے تو پاکستان گرے لسٹ سے نکل آ تا کیونکہ 26میں سے 21شرائط پر پاکستان عمل کر چکا ، بھارت کے خلاف منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے شواہد موجود ہیں اس کے باجود ان کو نظرانداز کیاجا رہا ہے ۔معروف تجزیہ کار عبد اﷲ گل نے کہا کہ ہمیں فیٹف نے بلیک میل کیا اور ہم بلیک میل ہو گئے ، اب یہ ہمیں بلیک میل کرتے رہیں گے یہ سب مغرب کا ایجنڈ ا ہے ، وہ اپنے چنگل سے کبھی ہمیں آ زاد نہیں ہونے دیں گے ، اصل بات یہ ہے کہ مغرب ہمیں اپنے مفادات کیلئے استعمال کے ساتھ نیوکلیئر معاملات پر بھی ہم سے سمجھوتہ چاہتا ہے ۔