لاہور(قاضی ندیم اقبال)ملک میں 45سال سے قائم مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے متعلق قانون سازی کے سلسلہ میں از سر نو غور و خوض شروع کردیا گیا۔ آنیوالے چندماہ کے دوران تمام 2مسالک کے علماء مشائخ کو آن بورڈ لیکر متفقہ مسودہ قانون تیار کر کے اسمبلی میں پیش کیا جائیگا تاکہ ملک بھر میں رمضان کا آغاز ایک ساتھ ہوگا اور عیدین بھی ایک ہی دن منائی جا سکیں گی۔ چاند کا نجی اعلان کرنیوالوں کیخلاف قانونی کارروائی ہوگی۔اس ضمن میں دو سال قبل تیار کیا گیا’’رویت ہلال ایکٹ2017‘‘کا مسودہ ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا۔معتبر اور مصدقہ ذرائع نے بتایا کہ ملک میں ایک سے زائد عیدیں منانے کے عمل کو ختم کرنے کیلئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کوشش کی اور سابق دور کے وفاقی سیکرٹری مذہبی امور خالد مسعود چودھری نے اس بابت بہت کام کیا۔ تمام صوبوں میں محکمہ اوقاف کی وساطت سے علماء مشائخ کو آن بورڈ لیکر سفارشات حاصل کی گئیں۔وفاقی حکومت کی ہدایت پر پنجاب میں اس معاملہ پر 2017میں اس وقت کے سیکرٹری اوقاف محمد حسن رضوی متحرک رہے ۔ انہوں نے 11مئی 2017 کو علماء مشائخ کا اجلاس بھی بلوایا تھا جس میں ’’پاکستان رویت ہلال ایکٹ2017‘‘ کی تیاری کیلئے سفارشات مرتب کی گئیں۔دیگر صوبوں سے بھی سفارشات حاصل کر کے حتمی شکل دی گئی۔ بل میں تجویز کیا گیا کہ چاند کی شہادت شرعی طریقہ کار کے مطابق لی جائیگی اور کسی نجی کمیٹی کو چاند دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔بل میں قرار دیا گیا کہ قانون شکنی پر 6 ماہ قید، 50 ہزار جرمانہ یا دونوں عائد ہونگے ۔چاند کا اعلان کمیٹی سے قبل کرنے پر ٹی وی چینلز پر 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوگاجبکہ چاند کا نجی اعلان کرنیوالے کو ایک سال جیل کی سزا ہوگی۔ چاند کی غلط شہادت دینے والے کو 6 ماہ قید، 50 ہزار جرمانہ یا دونوں عائد ہونگے ۔ تجویز دی گئی کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی وفاق کے زیر کنٹرول ہوگی، کمیٹی چیئرمین سمیت 15 رکنی ہوگی،ہر صوبہ سے 2علما اور آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، فاٹا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا ایک، ایک رکن شامل ہوگا،محکمہ موسمیات، سپارکو اور وزارت مذہبی امور سے بھی ایک، ایک نمائندہ شامل ہوگا۔صوبائی کمیٹیاں چیئرمین سمیت 12 ارکان پر مشتمل ہونگی جبکہ اسلام آباد کیلئے چیئرمین اور اوقاف کے رکن سمیت 7 ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائیگی۔ کمیٹیوں کی مدت 3 سال ہوگی۔مرکزی چیئرمین کا تقرر وفاقی حکومت کریگی اور چیئرمین ہر تین سال بعد باری باری ہر صوبہ سے لیا جائیگاجبکہ چیئرمین کو ہٹانے کی مجاز وفاقی حکومت یا کمیٹی کی دو تہائی اکثریت ہوگی۔ وزارت مذہبی امور نے بل کی منظوری کیلئے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کی تاکہ کابینہ سے منظوری کے بعد ’پاکستان رویت ہلال ایکٹ 2017‘ پارلیمنٹ میں پیش کیا جاسکے ، تاہم ایسا ممکن نہ ہو سکا۔وزارت مذہبی امور کے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت میں شامل تقریباً سبھی سٹیک ہولڈرز کی خواہش ہے کہ سابق دور میں تیار کئے گئے مجوزہ مسودہ قانون کو آگے لیکر چلا جائے اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے متعلق قانون سازی کو پایہ تکمیل تک پہنچا یا جائے ۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان رویت ہلال ایکٹ2019 کی تیاری کے سلسلہ میں فی الوقت وزارت مذہبی امور ، حج وبین المذاہب ہم آہنگی میں باضابطہ طور پرکام کا آغاز نہیں ہوا، تاہم اس ضمن میں گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔ قانون سازی کے حوالے سے آئندہ چند ماہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔