تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ سب سے بودا، کمزور اور ناپائیدار رشتہ انسان کا زمین کے ساتھ تعلق، وابستگی اور محبت کا رشتہ ہے۔ دنیا بھر کی تہذیبوں میں انسان، زمین کو دھرتی ماتا، مادرِ وطن اور مدر لینڈ (Mother land) کہہ کر پکارتا ہے۔ لیکن اس ’’ماں‘‘ سے انسان کی محبت اتنی کمزور ہے کہ جب کبھی یہ بنجر ہو جاتی ہے، اس کے پانی کے سوتے خشک ہو جاتے ہیں، اسے آفتیں، بلائیں، طوفان اور زلزلے گھیر لیتے ہیں، یہ روزگار فراہم کرنے کے قابل نہیں رہتی ،تو وطن سے محبت کا دعویدار انسان جو کچھ بھی اٹھا سکتا ہے، وہ اٹھاتا ہے اور اس ماں کوالودع کہہ دیتا ہے۔دنیا کی اوّلین ہجرتیں جانوروں کے لیئے گھاس کے قطعات ِ ارضی اور پینے کے لیئے پانی کے چشموں کی جستجو میں ہوئیں۔ کس قدر بلند و بانگ دعوے کیئے جاتے ہیں کہ ہم اپنی مادرِ وطن کے لیئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے، لیکن یہ آخری قطرہ بھی اسی وقت ہی بہایا جاتا ہے، جب اس ماں کے دامن میں انسان کے فائدے چھپے ہوں، پانی ، ہوا، معدنیات اور فصلیں موجود ہوں۔ دنیا بھر کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور ماہرینِ تاریخ اس بات پر متفق ہیں کہ آج سے کئی لاکھ سال پہلے، انسان افریقہ کے سرسبز خطے میں آباد تھا، لیکن جہاں جہاں یہ خطہ ریگستان اور صحرا میں تبدیل ہوا، انسان وہاں سے بھاگا اور پہلے شمالی افریقہ اور پھر یورپ و ایشیا سے ہوتا ہوا، دنیا بھر میں پھیلتا چلا گیا۔ جہاں جہاں پانی اور سبزہ موجود تھا انسان نے اسی سرزمین کو ماں کہنا شروع کر دیااوریہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی سرسبزاور شاداب سرزمین ہی تھی کہ اڑھائی ہزار سال قبل مسیح ، جب روس کے جنوبی گھاس کے میدان خشک ہونے لگے تو وہاں سے’’ آریہ‘‘ اقوام یہاں حملہ آور ہو کر ایسی آباد ہوئیں کہ آ ج انہی حملہ آوروں کی اولادیں سندھ اور پنجاب میں آباد ہیں، جو’’ ہڑپہ‘‘ اور’’ موہنجوداڑو‘‘کے آثارِ قدیمہ کو اپنا’’ تہذیبی ورثہ‘‘ اور’’اثاثہ‘‘ قرار دیتی ہیں حالانکہ انہی کے آباء واجداد ہی تو تھے جو ان شہروں میں بسنے والے لوگوں کے قاتل تھے۔ یہ قتل عام بہت خوفناک تھا۔صرف موئن جوداڑو کے آثارِ قدیم کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ حملہ آور کسقدر ظالم تھے۔ آریائی نسل کے لوگوں کے اس قتل عام کا اندازہ آثارِ قدیمہ سے برآمد ہونے والی لاشوں سے کیا جا سکتا ہے۔ موئن جوداڑومیں چھ جگہ سے لاشیں برآمد ہوئیں۔ شہر کے بیچوں بیچ ایک کنواں تھا، جس تک پہنچنے کے لیئے سیڑھیاں استعمال ہوتی تھیں۔ یہ کنواں ایک بڑے سے کمرے میں تھا۔ حملے کے وقت لوگوں نے اس میں پناہ لینے کی کوشش کی ہوگی کہ قتل کردیئے گئے۔دو لاشیں ان سیڑھیوں پر ملیں جن میں ایک عورت تھی اور ایک مرد، دو لاشیں اس دورازے کے پاس گلی میں ملیںجو کنویں تک آتی تھی، ایک لاش کمرے کے فرش پر اوندھے منہ تھی اور دوسری سیدھی پڑی ہوئی تھی، ان کو دفن کرنے کی بھی مہلت نہ مل سکی اور شہر اجاڑ دیا گیا۔ ایک گھر سے چودہ انسانی ڈھانچے برآمد ہوئے، جن میں تیرہ مرد اور ایک عورت تھی، ان کے ساتھ ایک بچے کی بھی لاش تھی جن کی کھوپڑیوںپر تشدد کے آثار تھے۔ ایک لاش کا زخم تقریباً 1147 ملی میٹر یعنی پونے چار فٹ لمبا تھا، جو یقیناً کسی تلوار یا خنجر کا گھاؤ تھا۔ ایک گلی کے کونے سے چارڈھانچے ملے، جن میں تین مرد ،ایک عورت اور ایک بچہ تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے یہ لوگ حملہ آوروں سے چھپنے کے لیئے یہاں آئے اور قتل کر دیئے گئے۔ ایک گہری جگہ سے نو(9) ڈھانچے ملے جو آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے جلدی میں قتل کر کے انہیں اس کھائی یا کنویں میں ڈال دیاہو۔ شہر سے کل اڑتیس (38) بے گور و کفن لاشیں برآمد ہوئیں، جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ قتل عام کے ساتھ ہی لوگ کیسے شہر چھوڑ کر بھاگے ہوں گے۔ان کے قاتل وہ آریائی وحشی قبائل تھے ،جو یہاں آکر آباد ہوگئے اور یہاں بسنے والوں کو جزیرہ نماہند کے جنوب میں دھکیل دیااور خود اس دھرتی کے وارث بن گئے اور اسے ’’ماں‘‘ کہنے لگے۔اس دھرتی پر دنیا بھر سے آنے والے حملہ آور ، تاجر، مبلغ اور پیشہ ورکاریگرمسلسل آکر آباد ہو تے رہے ہیں۔ ہمالیہ ، ہندوکش اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں کے نیچے ترائی کے یہ میدان سرسبز بھی تھے اور شاداب بھی اور آج بھی ایسے ہی ہیں۔ اسی لیئے یہ میدان آج تک ’’دھرتی ماتا‘‘ اور ’’مادرِ وطن ‘‘کہلاتے ہیں۔ سرسبزب وشاداب سرزمین ہی ہے کہ تین ہزار سال سے لے کر اب تک یہاں آکر آباد ہونے والے، آریاؤں کی اولادیں ہوں یا سکندر، محمد بن قاسم، سفید ہن، کشان، غزنوی و غوری کی نسلیں یا اسلام کی دعوت لے کر آنے والے مسلمان صوفیاء اور علماء کے گدی نشین، سب کے سب اس دھرتی ماتا پر ایسے آباد ہوئے کہ پھر جوبھی حملہ آور، مبلغ یا تاجر یہاں آیا، کسی نے اس سے لڑنا مناسب خیال نہ کیا۔ پاکستان میں آباد ہر کوئی ایسا ہے جس کے آباء واجداد باہر سے آئے تھے۔ کوئی تین ہزار سال پہلے یہاںآکر آباد ہوئے تو کوئی اس خطے میں تقسیم کے بعد ہونے والی آخری ہجرت کے نتیجے میں یہاں آبسا۔ سب کے ہیروزبیرونی حملہ آور ہیں یا حملہ آوروں کی اولادیں۔ سندھ کا راجہ داہر ہو یا پنجاب کا جے پال اور انند پال، ان حملہ آوروں کی نسل سے تھے جنہوں نے اس خطے کی عظیم تہذیب کو تاخت و تاراج کیا۔ اسی طرح یہاں پر حکمران تمام مسلمان یا تو حملہ آوروں کے ساتھ آئے یا پھر مسلمان ہو کر ان کی صف میں شامل ہو گئے۔ ہر کسی کا ہیرو باہر سے آکر یہاں آباد ہوا تھا۔ کوئی تین ہزار سال پہلے تو کوئی چودہ سو سال پہلے اور کوئی صرف ستر سال پہلے۔ جب تک اس سرزمین پر گھاس اُگتی رہے گی ، پانی میسر ہوگا اور یہاں جنگ کی آگ اور بارودکا کھیل نہیں شروع نہیں ہوتا، اس وقت تک یہ دھرتی ماتا یا مادرِ وطن ان سب کی ماں رہے گی۔ لیکن خدنخواستہ اگر یہ خطہ آگ اور بارود کی زد میں آگیا تو اس کے بعد یاد رکھو!شام، عراق اور افغانستان کے لوگوں کو تو دیارِغیر میں پناہ مل گئی تھی ، اس خطے کے ہجرت زدہ لوگوں کو کون ہے جوامان دے گا۔ کئی سال پہلے لکھی گئی اپنی غزل کا شعر یاد آرہا ہے ؎ کون در کھولے گا اب ہجرت نصیبوں کے لیئے کس کے گھر جائیں گے اب گھر سے نکل جانے کے بعد پنجاب ، سندھ، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کی سرحدیں جن پر ہم لڑ رہے ہیں،ازلی ابدی اور آفاقی نہیں، یہ لکیریں تو انگریز نے کھینچی تھیں۔ ان کے تقدس پر مرنے کی قسمیں کھانے والوں کو اندازہ ہی نہیں کہ اگر ایک دفعہ اس سرزمین پر آگ برسی تو پھر کسی کو ہیر رانجھا یاد رہے گی نہ ہی شاہ لطیف۔ جام درگ اور رحمان بابا کے گیت پھر کوئی نہیں گنگنائے گا۔ آئین پاکستان رہے گا نہ اٹھارویں ترمیم ۔ لیکن میرے ملک کا سیکولر لبرل قوم پرست طبقہ شاید یہی چاہتا ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والی یہ واحد مملکت دنیاکے نقشے سے مٹ جائے۔ لیکن میرے اللہ کے فیصلے اور ہیں۔ اس سے پہلے کہ ان فیصلوں کی گھن گرج سنائی دے ، سنبھل جائیں۔ رسول اکرم ﷺ کی حدیث وارننگ دے رہی ہے، ’’ خراب السند من الہند‘‘ (سنن الوردۃ الفتن)،یعنی ’’سندھ کی خرابی ہند کے ہاتھوں‘‘۔ یہ سزا یقینا پاکستان کی نعمت کے کفران کے نتیجے میں ہمیں ملے گی ۔کاش ہم اس سزا سے بچ سکیں۔