واشنگٹن (نیٹ نیوز)امریکا کے محکمہ خزانہ نے لبنان کے 3 شہریوں سمیت 12 اداروں پر ایران حمایت یافتہ حزب اللہ کی شہداء فاؤنڈیشن سے تعلق پر پابندیاں عائد کردی ہیں اور ان کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں ڈال دیا ہے ۔ امریکا نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی کے تحت اس کی آلہ کار تنظیموں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ حزب اللہ کے وابستگان پر یہ نئی پابندیاں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ نئی قدغنوں کے تحت امریکی شہری اورادارے ان لبنانی افراد اور اداروں کے ساتھ کوئی کاروبار نہیں کرسکیں گے ۔ان کے علاوہ سرکردہ بین الاقوامی بینک بھی ان کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں کریں گے ۔ایک جوہری تجزیہ کار نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ایران پر امریکا کی پابندیوں سے حزب اللہ کی آمدن سکڑ کررہ گئی ہے اور ان پابندیوں کے اس پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایران پر پابندیوں کے حزب اللہ پر اثرات کے حوالے سے امریکہ کی تفہیم شاید مبالغہ آرائی پر مبنی ہے ۔واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گذشتہ سال جولائی میں حزب اللہ کے تین سرکردہ کارکنان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ان میں لبنانی پارلیمان کے دو منتخب ارکان امین شری اور محمد حسن رعد بھی شامل تھے ۔ان پر اپنا اثرورسوخ بروئے کار لاتے ہوئے حزب اللہ کی سیاسی ومالی معاونت کا الزام عاید کیا گیا تھا۔امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’دنیا بھر میں اب دوسری اقوام کے لیے یہ یقین کرنے کا وقت آگیا ہے اور وہ یہ تسلیم کریں کہ حزب اللہ کے سیاسی ونگ اور اس کے عسکری بازو میں کوئی فرق نہیں ہے ‘‘۔واضح رہے کہ امریکا نے 2017ء میں حزب اللہ کودہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کاالزام لگاکر بلیک لسٹ قراردیا تھا اور اس سے وابستہ کارکنان ، لیڈروں اور اداروں پر پابندیاں عاید کرنا شروع کی تھیں۔