لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما صداقت علی عباسی نے کہا ہے کہ سب کو پتہ ہے نوازشریف کی صحت خراب ہے ان کی صحت کے ساتھ کوئی رسک لینا چاہئے ،خدانخواستہ انہیں کچھ ہو تو ہم پر بوجھ نہ آئے ہمیں ان کی زندگی پیاری ہے ۔ جب وہ ٹھیک ہوجائیں تو انہیں واپس آکراپنا حساب دینا چاہئے ۔پروگرام کراس ٹاک میں میزبان اسداللہ خان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا میرے خیال میں مریم نواز کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے کیونکہ ان کی کوئی ایسی وجہ نہیں ہے ۔میں سمجھتا ہوں ایک پاکستان کا وقت شایدابھی نہیں آیا حالانکہ میں بھی اس نعرے کے تحت ووٹ لے کرآیا ہوں۔ مجھے دھرنے میں بیٹھے افراد سے ہمدردی ہے کیونکہ ان کودھوکہ دیاگیا۔ دھرنے والوں کے فنانسر پریشان ہورہے ہیں،ہم پوری کوشش کرینگے کارکنوں کو کوئی تکلیف نہ ہو اورانہیں دھرنے میں تمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔گروپ ایڈیٹر روزنامہ 92 نیوز ارشاد احمد عارف نے کہا کہ ہمارا معاشرہ طبقاتی ہے جس میں طاقت ور طبقات کیلئے الگ الگ مراعات اورقوانین بھی ہیں۔ حکومت کو یہ واضح کرنا پڑے گاکہ نوازشریف انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر جارہے ہیں یا کوئی مینجمنٹ ہوئی ہے ۔ ن لیگ سے سے بھی یہ سوال ہوگا کہ ان کے لیڈر باربار کیوں باہر جاتے ہیں اور عوام کو کسی کے رحم وکرم پر چھوڑجاتے ہیں۔ کچھ غلط فہمیوں کی بنیاد پر مولانا چل پڑے اورواپسی کا راستہ نہیں رکھا،انہیں اگر سپورٹ ہوتی تو دوروز کے بعد کچھ کردکھاتے ، اسوقت ریاستی اداروں کے پاس عمران خان کے مقابلے میں کوئی متبادل نہیں ہے ۔جے یو آئی کے رہنما مفتی فضل غفورنے کہا ساری جماعتیں اس پر متفق ہیں کہ الیکشن جعلی تھی اورحکومت بھی جعلی ہے ، دھرنے کا فیصلہ ہمارا اپنا تھا لیکن مارچ میں ن لیگ والوں نے ہمارا استقبال کیا وہ ابھی بھی سوچ رہے ہیں کہ انہیں دھرنے میں شرکت کرنی چاہئے ۔ہمیں دیوار سے ضرور لگایا گیا لیکن بند گلی میں نہیں ہیں، حکومت بند گلی میں پھنسی ہے ۔تجزیہ کار مجاہد بریلوی نے کہا اسلام آباد میں ہزاروں افراد کا بیٹھنا کوئی آسان نہیں ہے ، مولانا نے بڑی مہارت سے پتے کھیلے ، لگتا ہے عمران خان کو مس گائیڈ کیا گیا۔سیاسی تناظر میں کہہ رہاہوں کوئی حادثہ یا سانحہ ہوسکتا ہے ۔فضل الرحمن کا سکرپٹڈ پلان ہے جس کے مطابق وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔اگر مولانا بند گلی میں ہیں تو حکومت بھی بند گلی میں ہے ۔