ڈاکٹر آفتاب احمد دیال سنگھ کالج کے پروفیسر کیمسٹری میں پی ایچ ڈی اور عمر صرف 34 سال، لاکھوں تمناؤں اور ان گنت خوابوں کے سنہری قافلے لیے ،اس شہر خرابی میں پھرتا تھا ،جہاں گردنیں اوچھے پتنگ بازوں کی قاتل ڈور سے کٹ جاتی ہیں۔ آہ! قیمتی زندگی شہر کی تاریک راہوں میں بے موت ماری جاتی ہے،پتنگ کی ڈور نوجوان پروفیسر کی گردن پر پھرتی ہے، تو اس کی قاتل دھار کے نیچے ان گنت خوابوں اور خواہشوں کا قتل ہو تاہے،اتنے بڑے سانحے پر شہر کی انتظامیہ میں کوئی تھرتھلی نہیں مچتی،کیونکہ کوئی اس قتل کا ذمہ دار نہیں ہوتا، جس پتنگ باز کی وجہ سے یہ قتل ہوتا ہے ،اس کو تلاش کرنے کا کوئی طریقہ ابھی تک ایجاد نہیں ہو سکا۔ اس لئے پتنگ کی ڈور سے مرنیوالوں کے قاتل نامعلوم رہتے ہیں۔ شہر کے انتظامی اہل اختیار کے لئے یہ سانحہ محض اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے، کہ چند حرفی مذمتی بیان اور ایک آدھ ایس ایچ او کی معطلی سے اس کی سنگینی کااثر ان کے ذہنوں سے زائل ہوجاتا ہے۔مگر ان کا کیا جن کے گھروں میں یہ قیامت موسم بہار میں ٹوٹی، اس ماں اور باپ کو کوئی کیسے دلاسہ دے ،جن کی عمر بھر کی متاع کسی کے بے ہودہ اوچھی تفریح کی نذر ہوگئی۔ غمزدہ والدین کے اس سوال کا جواب کون دے گا، کہ پھول کھلنے کے موسم میں یہ شہر ان کے قابل بیٹے کے لیے کس نے مقتل بنایا؟ شہر کومقتل بنانے والے ہاتھوں کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کیوں نہیں روک سکے؟اگر کوئی ان کے بیٹے کے نامعلوم قاتل کا سراغ نہیں لگا سکتا، تو پھر یہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کئی طرح کی ایجنسیاں مجرم تک پہنچنے کے جدید ترین طریقے اور قاتل کو زمین کی پاتال سے ڈھونڈ کر لانے کی تربیت دیتے ادارے کس مرض کی دوا ہیں؟ پتنگ کی ڈور سے ہونے والے ایسے اندھے قتل کا ذمہ دار کون ہو سکتا ہے، وہ پتنگ باز اس کو قتل کر کے بھی فرد جرم سے سے بچا رہتا ہے یا پھر وہ انتظامیہ جو موسم بہار میں پتنگ کی ڈور سے گردنیں کٹنے کے سانحات کو معمول کے ایک معمولی واقعے کی طرح نمٹاتی ہے؟ ہر سال مو سم بہار میں اسی قسم کے سا نحے جنم لیتے ہیں، کبھی کوئی بچہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھے بیٹھے ڈور پھرنے سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے ،پچھلے دس سال کا ریکارڈ نکالیں تو حکومتوں کی انتظامی بے حسی کا بھی اندازہ ہوگا کہ ہر سال ایسے واقعات ہوتے ہیں لیکن پھر بھی دھاتی ڈور کے مکمل خاتمے کے لیے کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ دھاتی ڈور بنانے والے اور بیچنے والے کوئی غیر مرئی مخلوق تو نہیں،کہیں نہ کہیں توان کا منحوس وجود موجود ہے ،نہ ہی یہ مریخ کے باشندے ہیں،کسی شہر میں کسی سڑک کے کنارے کسی گلی کے اندر قاتل ڈور کو بنانے کا گھناونا کاروبار ہوتا ہوگا ،پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اہل اختیار آج تک اس کو جڑ سے ختم کرنے میں ناکام کیوں ہیں۔ کیوں یہ نحوست تفریح کے نام پر ہر سال موسم بہار میں یہ شہر کا چہرہ لہو لہان کرتی ہے۔دھاتی ڈور بنانے والے اور ان کو بیچنے والے لوگ ایسے ہر اندھے قتل میں برابر کے شریک ہیں، جس کے قاتل نہ معلوم رہتے ہیں۔ ان کے کارخانوں پر چھاپے مار کر ان کو گرفتار کرنا چاہیے اور ان کو عبرت ناک سزائیں دینی چاہییں تاکہ آئندہ کوئی بھی دھاتی ڈور بنا کر شہر کر مقتل نہ بنائے۔ المیہ یہ ہے کہ قاتل ڈور کا نشانہ موٹر سائیکل پر سواری کرنے والا ایک عام آدمی بنتا ہے ،جبکہ پالیسیاں بنانے والے انتظامی سربراہ شہر کے خاص آدمی اپنی محفوظ لینڈکروزروں پر دندنانے والے اس سے سہم اور خوف سے یکسرعاری رہتے ہیں، جو بدقسمتی سے بہار کے آغاز کے ساتھ ہی اس شہر کے موٹرسائیکل سواروں کے دلوں کو ہلائے رکھتا ہے۔ ’’ کہ نہ جانے کب کہاں کس موڑ پر زندگی قا تل ڈور کا نشانہ بن جانے۔‘‘ معمول کے چھاپے اور کارروائیاں یقینا ہوتی ہیں، لیکن کچھ دے دلاکر چھوٹنے کا ناسور اس معاشرے میں عام ہے۔ ایک اور المیہ یہ ہے کہ اس مسئلہ کو انتظامیہ بھی زیادہ اہمیت دیتی ہے جس مسئلہ کو میڈیا یا ٹی وی چینل زیادہ اٹھاتے ہیں،یا پھر وہ مسئلہ جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے اور سوشل میڈیا کا ٹرینڈ بن جائے۔امریکہ سے پڑھ کر آنے والا ایک قابل نوجوان پروفیسر آفتاب احمد کی صورت میں شہر کا ایک قیمتی دماغ شہر کی پر رونق سڑک پر بے موت مارا جاتا ہے ۔ عین موسم بہار میں شہر اس کے لیے مقتل بن جاتا ہے ۔اور اس سانحے پر ٹی وی چینلوں کے پرائم پرو گراموں میں اخلاقیات سے عاری سیاست کی گھتیاں سلجھاتے ہوئے دانشوروں صحافیوں اور اینکروں کی توجہ سماجی اور انتظامی زوال کو آشکار کرتے ہوئے اس سانحے پر نہیں پڑتی، وہ اسے اپنی گفتگو کا موضوع نہیں بناتے۔اس پر کوئی سوشل ٹرینڈ نہیں بنتا تو یقین کر لیں کہ سماج بصیرت اور بصارت سے محروم اپنی سماعت میں سنگ جیسا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ یہ سب ہنگامہ ہائے شوق تفریح کے نام پر اس معاشرے میں ہر سال ہوتا ہے۔ استاد محترم احمد جاوید کے الفاظ یاد آتے ہیں۔کسی سماج کی نظریاتی تہذیبی انسانی اور نفسیاتی سطح سمجھنی ہو تو یہ دیکھو کہ وہ کس قسم کی تفریح کرتے ہیں۔اس آئینے میں مجھے تو اپنا چہرہ بدصورت نظر آیا۔