اسلام آباد(سپیشل رپورٹر،وقائع نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیرہوابازی غلام سرور خان اپنی ہی حکومت پر برس پڑے ۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں زراعت کے شعبے میں نوجوانوں کی شمولیت اور روزگار کو فروغ دینے کیلئے ’کامیاب کسان‘ پروگرام کے ڈیزائن پر غور کیا۔ ملک بھر میں خشک سالی اور آفات سے متاثرہ علاقوں کیلئے امداد کے سلسلے میں توجہ دلاؤ نوٹس لیا اور زراعت کے شعبے کی ساختی تبدیلی کیلئے مستقبل کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سپیکر نے ذیلی کمیٹی کو زراعت کے شعبے کیلئے ٹھوس بجٹ تجویز پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا کہ گندم کی پیداوار ہر سال کم ہوتی جا رہی ہے ، ڈھائی تین سال میں زرعی سیکٹر کیلئے ہم کچھ نہیں کر سکے ، حکومت نے انڈسٹری، سروسز سب کو ریلیف دیا مگر زراعت کو نہ دیا،امپورٹڈ گندم 2400 روپے من پڑ رہی ،اپنے زمیندار کو 1800 دے رہے ، اتنا ظلم اپنے زمیندار کیساتھ نہ کیا جائے ، سندھ نے جو ریٹ 2 ہزار رکھا وہ حقیقت پر مبنی ہے ، میں کابینہ میں ہوں وہاں بھی ہماری بات سنی نہیں جاتی، کابینہ میں بزنس مین کی بات سنی جاتی ہے ۔ معاون خصوصی امور نوجوانوں عثمان ڈار نے زراعت میں نوجوانوں کیلئے پروگرام کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کیا ۔ سپیکر نے ڈی اے پی پر سبسڈی دینے کی تجاویز دی۔