وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں زرعی شعبے کے لئے امدادی پیکیج کی منظوری دی گئی ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم غیر قانونی بھرتیوں کا ڈیٹا فراہم نہ کرنے والی وزارتوں پر برہم دکھائی دیے‘ عوام سے شفاف طرز حکومت کا وعدہ کرنے والے عمران خان کی یہ برہمی بجا ہے۔ وفاقی کابینہ نے موبائل فون کی ملک میں تیاری سے متعلق پالیسی ،صوبوں میں ٹیلی میٹرز نصب کرنے اور چیئرمین سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمشن آف پاکستان کی تعیناتی کی منظوری بھی دی۔ بعدازاں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے آگاہ کیا کہ کابینہ نے تمام وزارتوں کو میڈیاکے واجبات فوری ادا کرنے کا کہا ہے۔وفاقی کابینہ کے مذکورہ فیصلے معمول کی انتظامی سرگرمیوں کی ذیل میں آتے ہیں تاہم کورونا کی وبا میں 21کروڑ پاکستانیوں کو بھوکوں مرنے سے بچانے والے زراعت کے شعبے کے لئے امدادی پیکیج کی افادیت یقینی بنانے کے لئے متعدد معاملات حکومت کی توجہ چاہتے ہیں۔ کورونا کی وبا نے صحت‘ معاشیات اور سماجی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ پوری دنیا میں اس وبا نے جس معاملے کی اہمیت دو چند کی وہ زراعت اور فوڈ سکیورٹی کا ہے۔ ملک کے بہت سے علاقوں میں کاشت کاروں نے طلب میں یکایک کمی کے باعث پھل اور سبزیاں کھیتوں میں ضائع کر دیں۔ جو پیداوار منڈیوں میں پہنچی اس کے نرخ اتنے کم وصول ہوئے کہ فصل پر اٹھنے والی لاگت بھی پوری نہ ہو سکی۔ لاکھوں ایسے کسان ہیں جو چند ایکڑ پر کاشت کاری کرتے ہیں۔ یہ کسان بیج اور کھاد ادھار پر حاصل کرتے ہیں۔ فصل اچھی نہ ہو یا منڈی میں قیمت اچھی نہ ملے تو ان کا پورا سال بنیادی ضرورتوں کے پیچھے دوڑتے گزر جاتا ہے۔کھیت مزدور اور کاشت کاروں کے ساتھ لاکھوں افراد مویشی پالتے ہیں۔ مویشیوں سے دودھ اور گوشت حاصل کیا جاتا ہے۔ شادی ہال‘ ریسٹورنٹس‘ ہوٹل اور کاروباری مراکز دو مہینے تک بند رہے۔ اب بھی شادی ہال اور ریسٹورنٹس بند ہیں۔ مویشی پال حضرات کا کاروبار کورونا نے تباہ کر دیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غریب نہیں سمجھے جاتے۔ وبا کے ایام میں جانوروں کی دیکھ بھال پر اخراجات معمول کے مطابق جاری ہیں لیکن آمدن نہ ہونے کی وجہ سے کاروبار خسارے میں بدل گیا ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران ملک بھر میں گندم کی کٹائی شروع ہوئی۔ کٹائی کا سیزن ختم ہو چکا ہے۔ کاشت کار کٹی فصل سے گندم محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کا ہدف تاحال پورا نہیں ہو سکا۔ محکمہ زراعت کی ٹیمیں گندم کے ذخائر پر چھاپہ مار رہی ہیں۔ ایسے ہی بعض گودام فلور ملز نے خفیہ طور پر بنا رکھے ہیں۔ ان گوداموں پر چھاپوں کے بعد محکمہ خوراک اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے مابین تنازع پیداہوا۔ فلور ملز نے ملیں بند کرنے کی دھمکی دی‘ دھمکی غیر موثر ہوئی تو آٹا مہنگا کر دیا۔ حکومت اور فلور ملز کے درمیان معاہدے کے بعد فلور ملز کو 72گھنٹے کی بجائے ایک ہفتہ کے سٹاک کی اجازت دیدی گئی ہے۔ اس سارے معاملے میں یقینا فلور ملز نے حسب سابق کچھ فوائد حاصل کر لئے ہیں لیکن ماحولیاتی تغیر اور بے موسمی بارشوں نے کسانوں کی فصل کو جو نقصان پہنچایا اس کا ازالہ کرنے کے لئے کوئی سرکاری حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔وطن عزیز کے 54اضلاع پر ان دنوں ٹڈی دل کا حملہ رپورٹ ہوا ہے۔ گزشتہ برس ایران کے راستے بلوچستان اور پھر سندھ سے سفر کرتی ٹڈی دل کے جھنڈ پنجاب کے اضلاع ساہیوال اور پاکپتن تک آ پہنچے تھے۔ ماہرین نے انتباہ کیا کہ ٹڈی دل نے رستے میں آنے والے علاقوں میں انڈے دیدیے ہیں جن میں سے بچے موسم گرم ہوتے ہی نکل آئیں گے اور بڑے رقبے پر فصلوں کو برباد کر سکتے ہیں۔ اس صورت حال پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی ہرگز اطمینان بخش قرار نہیں دی جا سکتی۔ ٹڈی دل پر سپرے کے لئے ترکی نے جہاز دیا ہے‘ چین نے سپرے کی خاصی تعداد فراہم کی ہے لیکن سرکاری ادارے سست روی سے معاملے کو مزید سنگین بنتا دیکھ رہے ہیں۔ ٹڈی دل کئی ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلوں اور باغات کو چٹ کر چکے ہیں مگر سرکاری سطح پر صورت حال کو اطمینان بخش اور کنٹرول میں بتایا جا رہا ہے۔ کورونا کے ایام میں کسانوں اور غریب افراد کی مدد کے لئے وزیر اعظم نے 200ارب روپے مختص کئے ہیں۔ مستحق خاندانوں کو 12ہزار روپے کی امدادی جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے کسانوں کو 15ارب روپے کی رقم بلا سود اور آسان اقساط پر دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے ڈھائی لاکھ کسانوں کی فصلوں کی انشورنس اپنے خزانے سے کرائی ہے۔ حکومت نے منصوبہ بنایا ہے کہ اگلے سال 12لاکھ کاشت کاروں کو گندم کا بیج حکومت خود فراہم کرے گی۔ ان اقدامات کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن سابق حکومتوں کی طرح پی ٹی آئی حکومت بھی اس امر کو نظر انداز کر رہی ہے کہ چھوٹے کسان، باغبان اور مویشی پال حضرات کے پاس کام میں آسانی اور معیار میں بہتری لانے والی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ پھلوں اور سبزی کے کاشتکاروں کے پاس سادہ سی مشینیں اور رہنمائی میسر ہوتی تو وہ اپنی پیداوار تلف کرنے کی بجائے اسے طویل عرصے تک محفوظ رکھ سکتے تھے۔وزیر اعظم تھوڑی توجہ دیں تو پاکستان میں سمیڈا اور ایسے کئی ادارے منظم کام کی رپورٹس بناتے رہے ہیں‘ کئی افراد ذاتی حیثیت میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کر کے آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ زرعی شعبے کے لئے امدادی پیکیج سے کسانوں کو وقتی سہولت مل سکتی ہے لیکن ایسی رقوم سے زرعی شعبے کو کوئی بڑا فائدہ نہیں ہو سکتا۔ بہتر ہو گا کہ چھ ایکڑ تک زمین رکھنے والے کاشت کاروں کو کم خرچ ٹیکنالوجی اور جدید فارمنگ کی تربیت دی جائے۔ اس سے ایک سال کے اندر زراعت میں انقلابی تبدیلیاں ظاہر ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔