لاہور(اشرف مجید)سٹی ٹریفک پولیس افسروں کی جانب سے جاری کے پی آئی سسٹم شہریوں اور وارڈنوں کے درمیان تکرار کی سب سے بڑی وجہ بن گیا ،وارڈن دئیے گئے ٹارگٹ پر شہریوں کے ہر صورت چالان کرنے پر مجبور ہو گئے ، ماہانہ 100 چالان پر 10پوائنٹ جبکہ 500 چالان کرنے والے وارڈنوں کو 100پوائنٹ کے ساتھ نقد انعام اور تعریفی اسناد دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے ،ذرائع کے مطابق چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید حماد عابد کی جانب سے ٹریفک وارڈنز کی کار کردگی کو جانچنے کیلئے کی انڈیکیٹر پرفارمنس سسٹم رائج کیا گیا ہے اس سسٹم میں ٹریفک وارڈنوں کو خاص طور پر زیادہ چالان کرنے پر نہ صرف نقد انعامات بلکہ تعارفی اسناد دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے ،ذرائع کے مطابق سی ٹی او لاہور کے آرڈر بک نمبر 6\70\PSOکے پیرا بی کے مطابق ٹریفک وارڈنوں کو چالان کرنے کا ٹارگٹ دیتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ جو بھی ٹریفک وارڈن ماہانہ 100چالان کرے گا اسے کے پی آئی سسٹم کے مطابق 10پوائنٹ دئیے جائیں گے اسی طرح 150چالان کرنے پر 20پوائنٹ ،200چالان کرنے پر 30پوائنٹ ،250چالان کرنے پر 40پوائنٹ ،300چالان کرنے پر 60پوائنٹ ،اسی طرح 400چالان کرنے پر 80جبکہ سب سے زیادہ 500چالان ماہانہ کرنے پر 100پوائنٹ دیئے جائیں گے ،جس پر ٹریفک وارڈن اپنی کار کردگی بہتر بنانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں افراد کے چالان کرنے پر مجبور ہیں ۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز گلبرگ میں شہری کو گاڑی سمیت لفٹر سے اٹھانے کا واقعہ بھی اسی کی کڑی ہے جس میں وارڈن کو انکوائری میں گنہگار قرار دے دیا گیا ،اسی طرح لاہور میں ٹریفک وارڈنز کی رکشہ وا ے لکے ساتھ تکرار جسکے نتیجے میں رکشے کو آگ بھی لگا دی گئی تھی ،اس طرح کے بے شمار واقعات روزانہ ہو رہے ہیں جو میڈیا پر رپورٹ بھی نہیں ہوتے ،چند روز قبل گلبرگ میں خاتون اور وارڈن کے درمیان تنازع میں غلطی تو خاتون کی ہی تھی تاہم اگر خاتون ہونے کے ناطے نرم رویہ رکھا جاتا تو شاید بات اتنی نہ بڑھتی ۔سٹی ٹریفک پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کے پی آئی سسٹم میں اچھی کار کردگی دکھانے والے 35وارڈنوں کی انعامات تقسیم کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ایسے ٹریفک وارڈن جنکی کار کردگی اچھی نہیں ہوتی ہے انکے پوائنٹ کاٹے جاتے ہیں جس میں غیر حاضری ،صاف ستھرائی و دیگر چیزیں شامل ہیں ،وارڈنز کو زیادہ چالان کرنے کے ٹارگٹ کے بارے میں علم نہیں ۔