لاہور (رانامحمد عظیم )مریم نواز سے سرکاری گاڑی برآ مد ہونے کے بعدچاروں صوبوں میں جن جن سابقہ حکمرانوں، بیوروکریٹس کے پاس موجود مہنگی سرکاری گاڑیاں واپس لینے اور ان کے خلاف گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال کے حوالے سے ایکشن لینے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ با وثوق ذرائع کے مطابق اربوں روپے مالیت کی 352گاڑیاں سابقہ حکمرانوں ، بیوروکریٹس اور پولیس افسران کے زیر استعمال ہیں جو ان کی واپسی کے حوالے سے ملنے والے نوٹس کوخاطر میں نہیں لا رہے ۔ 352 میں سے 180 گاڑیاں تین سے پانچ سال تک کے عرصہ سے ایسے افراد کے پاس ہیں جو اب حکومت نہ ہی سرکاری نوکریوں پر ہیں۔گاڑیوں کی مرمت اور دیگر معاملات میں سرکاری خزانے سے خرچہ کرایا گیا۔ 112کے پاس تو سرکاری ڈرائیور تک ہیں جوخزانے تنخواہ لے کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں سندھ سب سے آ گے ہے ۔تین سابق وزراء اعلی اور ان کے سٹاف کے پاس بھی سرکاری گاڑیاں ہیں۔ بلوچستان میں تیرہ مہنگی ترین گاڑیاں پچھلے سات سال سے غیر متعلقہ افراد استعمال کر رہے ہیں۔ کے پی کے میں83گاڑیاں ایسی ہیں جن کا ریکارڈ ہی نہیں کہ وہ واپس آ ئی ہیں یا نہیں اور اب بھی سابق وزراء اور بیوروکریٹس استعمال کر رہے ہیں۔ سابق پولیس افسران نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور آ ج تک سرکاری گاڑیاں اور فیول تک سرکاری استعمال کر رہے ہیں ۔ پنجاب میں دو سابق آ ئی جی آ ج تک سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔ ایک آ ئی جی سے ریٹائرمنٹ کے ڈیڑھ سال بعد سرکاری گاڑی واپس لی گئی جبکہ بیوروکریسی او ر سابق وزراء کے پاس اب تک سو سے زائد گاڑیاں ہیں ۔