کوٹ غلام محمد ، عمر کوٹ ، میرپورخاص، ٹنڈ الہ یار (نمائندگان نیوز ) میرپورخاص میں ڈی این اے ٹیسٹ کے زریعے شناخت ہونے والے 23 شہدائکی نعشیں جب میرپورخاص پہنچیں تو کچھ شہدا کے ورثہ نے ڈی این اے ٹیسٹ کی شناخت پر شکوک کا اظہار کردیا، نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے ورثا نے کہا ڈی این اے ٹیسٹ کے ذر یعے شناخت کے عمل کو تقریباً6ماہ لگتے ہیں لیکن انہوں نے 5دن میں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے 23 شہدا کی شناخت کردی جو متنازعہ ہوگئی ہے ، ورثا میں سے انیس قریشی نے بتایا اس کے بھائی شفیق احمد قریشی کی اس سانحہ میں زخمیوں کی لسٹ میں نام تھا ، اچانک ڈی این اے ٹیسٹ کی فائنل رپورٹ میں اس کو شہید ہونے کی لسٹ میں شامل کردیا گیا ، میرپورخاص میں سانحہ تیز گام لیاقت پور کے 23 شہدائکی نماز جنازہ مہاجر کالونی گراؤنڈ، چاندنی چوک، سیٹلائیٹ ٹاؤن اور پاک کالونی میں ادا کی گئی ، سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی، رکن رابط کمیٹی و انچارج نگراں ڈسٹرکٹ کمیٹی ڈاکٹر ظفر کمالی نے کہا کہ حق پرست قیادت شہدائکے لواحقین کی فوری مالی امداد کے لئے کوشش کرے گی، شہدائکے گھرانوں میں سرکاری ملازمت دی جائے ، عمرکوٹ میں سانحہ تیزگام ایکسپریس کے مزید چارجاں بحق افراد کی نمازجنازہ اداکردی گئی ، جھڈو کے نواحی علاقے ٹالہی کے رہائشی مولانا محمد یاسین اور لالہ محمد اسحاق خان کی نمازجنازہ ادا کی گئی، کوٹ غلام محمد میں حوالدار محمود خان راجپوت اور جی ایس ٹی استاد اسلام کی نماز جنازہ ادا کی گئی، ٹنڈو الہ یار میں 40 سالہ ندیم مغل کی نماز جنازہ ادا۔ سانگھڑ میں مردہ قرار خاتون زندگی نکل آئی، ابدال پورہ میں اہلِ خانہ نے عصمت بی بی کی میت لینے سے انکار کر دیا اور بتایا ان کی والدہ پنجاب کے شہر شور کوٹ میں موجود ہیں اور ان سے رابطہ ہو گیا ہے ۔