اسلام آباد(اظہر جتوئی)وفاقی حکومت نے کھاد پر سبسڈی دینے سے انکار کردیا،جس کی وجہ سے کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کے معاملے پر حکومت اور انڈسٹری کے مذاکرات ناکام ہوگئے ،دونوں اپنے اپنے موقف پر ڈتے رہے ،جمعرات کو وزارت تجارت کے حکام ا ور کھاد انڈسٹری کے مندوبین کے درمیان مذاکرات ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق کھاد انڈسٹری کا مطالبہ ہے کہ ان کو سبسڈی فراہم کی جائے اور فی بوری 200 روپے قیمت میں اضافہ کی اجازت دی جائے ،کیونکہ گیس کی قیمتوں میں اضافے سے لاگت پر اثر پڑا ہے ۔ذرائع کے مطابق وزارت تجارت کا موقف ہے کہ اس وقت کسان انتہائی مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، کھاد کی قیمت میں اضافہ سے ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا،اور زراعت کا شعبہ تنزلی کا شکار ہوگا،کھاد کی قیمتوں میں 100 روپے کی اجازت دی جا سکتی ہے تاہم گیس پر سبسڈی نہیں دی جا سکتی ہے ، ملک میں کھاد کی طلب ورسد ٹھیک ہے ، اور حکومت کی کوشش ہے کہ ناجائز طور پر کھاد کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو، گیس کی قیمت میں اضافے سے کھاد کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے گیس پر سبسڈی نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس سے ریونیو پر اثر پڑے گا۔زرائع کے مطابق کھاد انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے انڈسٹری کے نمائندگان نے مطالبہ کیا کہ ان کے مطالبات مانے جائیں ورنہ احتجاج پرمجبور ہوجائیں گے ۔ مذاکرات ناکام ہونے پر کھاد کی نئی قیمت کا تعین نہیں ہو سکا ہے ۔