لاہور ( رانا محمد عظیم) چوہدری شوگر ملز کیس،غیر قانونی جائیدادوں، بے نامی اکاؤنٹس اور بوگس ادائیگیوں کے حوالے سے شہباز شریف،مریم نواز،حمزہ شہباز، سلمان شہباز، اسحاق ڈار، حسن اور حسین نواز ودیگرکے خلاف اداروں کو مزید شواہدمل گئے ۔ آنے والے دنوں میں شہباز شریف سمیت کچھ سرکاری اہلکار اور لاہور میں ان کیلئے کام کرنے والے دیگر افراد کی گرفتاری متوقع ہے جبکہ پانچ سے زیادہ ریفرنسز مریم نواز اور شہباز شریف سمیت دیگر افراد پر بن سکتے ہیں ۔ لاہور کے ایک ایم این اے ، ایک ایم پی اے ، دو تحصیلدار، چھ ایل ڈی اے افسران اور محکمہ ریونیو کے کچھ اہم افراد بھی گرفتار ہونے والے ہیں ۔ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے اداروں کو مزید ثبوت مل چکے ہیں جس میں مریم نواز کی اربوں روپے کی بے نامی جائیدادیں سامنے آئی ہیں جو لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ایم این اے ، ایک ایم پی اے اور تین اہم شخصیات کے ذریعے خریدی جاتی تھیں۔خریداری میں بظاہر وہی شخصیات آگے ہوتی تھیں مگر ان میں باقائدہ حصہ مریم نواز، اسحق ڈار اور شریف فیملی کے دیگر افراد کا ہوتا تھا ۔ رائیونڈ اور جوہر ٹاؤن میں زیادہ تر پراپرٹیز کی خرید و فروخت ہوتی تھی جس میں سرکاری اداروں کے ذمہ داران بھی ان کی مدد کرتے تھے ۔ کئی ایکڑ سرکاری اراضی بھی فروخت کر کے باقائدہ شریف خاندان کے ان افراد کو حصہ ملتا تھا اور پھر وہ پیسہ کس طرح ان کے اکاونٹس اور دیگر جگہوں پر استعمال ہو تا تھا اس میں کچھ سابق ایف بی آر کے افراد سے لیکر کچھ بینکرز بھی ان کی مدد کرتے تھے ۔ اسحاق ڈار کی اس کرپشن میں ان کے ساتھ کئی معاملات میں حصہ داری سامنے آئی ہے ۔عباس شریف کے بیٹے یوسف عباس اور دو اور زیر حراست افراد نے چوہدری شوگر ملز سے کروڑوں روپے کا ٹیکس بچانے ،وہاں متعین سرکاری اداروں کے افراد کی مکمل سپورٹ ، کتنی بڑی رقم کھاتوں میں بوگس ادائیگیوں کے ذریعے جاتی اور وہاں سے مختلف اکاونٹس میں شفٹ ہوتی اور پھر سالانہ رپورٹس میں ان کو کس طرح کلئیر کیا جاتا، اس کی تمام دستاویزات اور ثبوت اہم اداروں کو مل چکے ہیں ۔