اسلام آباد(نامہ نگار،92 نیوز رپورٹ)چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کیخلاف بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی ،ملزم پر قومی خزانے کوایک ارب 60کروڑ نقصان پہنچانے کا الزام ہے ۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چئیرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں ہوا ۔اجلاس میں ڈپٹی چئیرمین نیب ، پراسیکیوٹر جنرل اکائو نٹیبلٹی ،ڈی جی آپریشن،ڈی جی نیب راولپنڈی اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بدعنوانی کے دو اورریفرنسز دائرکرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ایک ریفرنس سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر لوک ورثہ اسلام آباد مظہر الاسلام اور دیگرکیخلاف مبینہ طورپر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر من پسند افراد کوٹھیکے دینے کا ہے جس سے قومی خزانے کو 30.13ملین روپے کا نقصان پہنچا۔دوسرا ریفرنس سابق ڈائریکٹر تعلیم فاٹا فضل منان اور دیگرکے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طورپراختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اساتذہ کی جعلی بھرتیاں کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 11کروڑ73لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ اجلاس میں 12انکوائریوں کی بھی منظوری دی گئی جن میں سابق وفاقی وزیر ہاؤسنگ اکرم درانی ، سابق صوبائی وزیر شیر اعظم وزیر اور دیگر،سابق رکن سندھ اسمبلی علی غلام نظامانی ، رکن سندھ اسمبلی سعید خان نظامانی ،سابق ڈی جی ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کراچی محمد سہیل ،مسزعصمت اﷲ،ایکسئین ،ایم ای ایس ، سیالکوٹ کینٹ،المعیزانڈسٹریز لمیٹڈایم ایم روڈ تحصیل پپلان ضلع میانوالی اور دیگر،کراچی پورٹ ٹرسٹ کے افسران /اہلکاران ،محکمہ صحت حکومت سندھ کے افسران/اہلکاران ،پروکیورمنٹ کمیٹی کے اراکین ،پروگرام مینیجرہیپا ٹائٹس پریوینشن اینڈ کنٹرول پروگرام سندھ اور دیگر ، گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسمٰعیل خان کے افسران /اہلکاران اور دیگر،محکمہ خوراک خضدارکی انتظامیہ،رام چندچیف انجینئر سکھر،عبدالوہاب سہیتوایگزیکٹیو انجینیراور دیگر،پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ ڈویژن لاڑکانہ، سرکاری ٹھیکہ دار اقبال شیخ اور دیگر، میسرز چنیون بلڈرز پرائیویٹ لمیٹڈکی انتظامیہ اور دیگر شامل ہیں۔ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں چیف ایگزیکٹیو آفیسرمیسرزیونیکو پرائیویٹ لمیٹڈ عاطف کامران اور دیگرکے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی گئی ۔نیب ایگزیکٹو بورڈنے رکن سینیٹ/سابق وفاقی وزیر برائے مواصلات حافظ عبد الکریم، عثمان عبد الکریم،انس عبدالکریم،ڈاکٹر نجیب حیدر اور دیگر،غلام قادر پلیجو سابق ایم پی اے ٹھٹھہ اور دیگر، عبدالستارڈیرو سابق مینیجنگ ڈائریکٹر پورٹ قاسم اتھارٹی اور دیگر،کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے افسران /اہلکاران،میسرز میکا ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈاور دیگر کے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق انکوائری ختم کرنے کی منظوری دی۔بورڈ نے مالکان/ڈاکٹرز میسرز اے ایم کنسٹرکشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ فیصل آباد،کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈپارٹمنٹ کے افسران /اہلکاران اور دیگرکے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق انوسٹی گیشنز ختم کرنے کی منظوری دی۔ اجلاس میں سرگودھا کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کی انتظامیہ /افسران/اہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائری قانون کے مطابق کارروائی کیلئے چیف سیکرٹری پنجاب اور رحمت اﷲ بلوچ ،چیف ایگزیکیٹو آفیسر کیسکو اور دیگر کے خلاف انکوائری قانون کے مطابق کارروائی کیلئے متعلقہ محکمہ کو بھیجنے کی منظوری دی۔اس موقع پرچیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہامیگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے ۔ نیب "احتساب سب کے لئے " کی پالیسی پر سختی سے عمل پیر ا ہے ۔ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اور عوام کی لوٹی گئی رقم کی واپسی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا ر ہے ہیں ۔بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے جس کا خاتمہ نیب سمیت تمام پاکستانیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ وہ بد عنوان عناصر ، اشتہاری اور مفرور ملزمان کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے ۔ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فریضہ سمجھتاہے اور نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے ۔