اسرائیل کی جانب سے فضائی حملے میں حماس کے ایک سینیئر کمانڈر کی ہلاکت اور غزہ میں کئی منزلہ عمارت کی تباہی کے بعد حماس کے عسکریت پسندوں نے اسرائیل پر 1500 راکٹ داغے۔اسرائیل کے جدید اینٹی میزائل سسٹم نے کئی میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کردیا۔ اس کے باوجود سینکڑوں راکٹ نشانے پر لگے۔ اسرائیل کا جدید ترین دفاعی سسٹم فیل ہوگیا۔ سارے اسرائیلی شہر حماس کے نشانے پرآگئے۔ راکٹ حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی شہر اشکیلون میں تیل کی پائپ لائن تباہ ہوگئی۔ تل ابیب ایئرپورٹ پر فلائیٹ آپریشن معطل کرنا پڑا۔ ہالون میں ٹی وی اسٹیشن کی عمارت تباہ کردی گئی۔ اسرائیل نے بین الاقوامی نشریاتی ادارے والی عمارت کو تباہ کیا برج الجلاء عمارت میں الجزیرہ کے دفتر اور امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے علاوہ دیگر مقامی اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے دفاتر کے ساتھ کئی رہائشی اپارٹمنٹس بھی تھے۔اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ کے حکمراں عسکریت پسند حماس گروپ کے ایک اعلی رہنما کے گھر پر بھی بمباری کی اورایک پناہ گزین کیمپ پر اسرائیل کے حملے میں آٹھ بچے اور دو خواتین ہلاک ہوئیں۔ دنیاء میں محض چھ ممالک کے پاس ائیر ڈیفنس سسٹم موجود ہے۔ جن میں روس، امریکا، چائینہ، فرانس ، اسرائیل اوربھارت شامل ہیں۔ اسرائیل کا آئرن ڈوم سب سے سمارٹ فضائی ڈیفنس شمار کیا جاتا ہے آئرن ڈوم تین حصوں پر مشتمل ہے اور ان تین حصوں کو ملا کر ایک بیٹری کہا جاتا ہے۔بیٹری کا پہلا حصہ RDU یعنی ریڈار ڈیٹیکٹشن یونٹ ہے جو کوئی بھی موونگ آبجیکٹ، مزائل یا راکٹ اسرائیل کی حدود میں داخل ہونے سے کئی کلومیٹر پہلے ہی ڈیٹکٹ کر کے سسٹم کو اسکی نشاندہی کر دیتا ہے۔ دوسرا حصہ BMC یعنی بیٹل مینجمنٹ اینڈ کنٹرول یونٹ ہے یہ یونٹ آنے والے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی سٹریٹجی بناتا ہے اور فوری طور پر سگنلز جرنیٹ کرکے تمام یونٹس کو آگاہ کردیتا ہے۔ تیسرا حصہ MFU یعنی مزائل فائرنگ یونٹ ہے جو سگنلز ملتے ہی مزائل فائر کرتا ہے اور یہ میزائل آرٹیفشل انٹیلی جنس کے ذریع اسرائیل کی جانب آنے والے میزائل یا راکٹ کا تعقب کرکے اسے اسرائیل کی فضائی حدود سے باہر ہی تباہ کردیتا ہے۔اس جدید ترین اور خودکار ڈیفنس سسٹم کی ایک بیٹری یونٹ پر لگ بھگ پچاس ملین ڈالر لاگت آتی ہے۔آئرن ڈوم میں استعمال ہونے والے میزائل ہِیٹ اور موشن ڈیٹیکٹر سنسرز کے ساتھ ساتھ میٹل ڈیٹیکٹرز اور فضاء میں اپنا رْخ تبدیل کرنے کی صلاحیت کے حامل جدید ترین خودکار میزائل ہیں۔ اس ایک میزائل کی قیمت 40 سے 60 ہزار امریکی ڈالر ہے۔ اسرائیل نے ایسی دس بیٹریز ڈپلائے کر رکھی ہیں۔ جس کے بعد اسرائیل کا ائیر ڈیفنس ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے برعکس حماس کے پاس دیسی ساختہ راکٹس ہیں جو کہ انتہائی محدود رینج تک مار کرسکتے ہیں۔ یہ راکٹ مقامی سطح پر خفیہ ورکشاپس میں لوہے کی پائپ کاٹ کر تیار کئے جاتے ہیں جن کی تکنیک پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیانی عرصے کی ہے۔ حماس کے انہی دقیانوسی دیسی راکٹوں سے دنیاء کا جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم ناکارہ بنا دیا۔ حماس نے آئرن ڈوم کو توڑنے کے لئے بہت سادہ سی تیکنک استعمال کی۔ ایک ساتھ سینکڑوں میزائل اسرائیل میں مختلف ڈائریکشنز میں فائر کر دیئے۔جس سے آئرن ڈوم کی آرٹیفشل انٹیلی جنس بریک ہوگئی۔ درجنوں میزائل آئرن ڈوم کو ڈاج کر کے اسرئیلی شہروں میں جاگرے۔ جہاں انہوں نے تباہی مچادی جس کے بعد پوری دنیاء میں آئرن ڈوم موضوع بحث بن گیا۔ حماس کے اس کامیاب حملے نے تمام عالمی طاقتوں کے دفاعی نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کردیئے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف امریکا ، برطانیہ اور ارجنٹینا سمیت مختلف ممالک میں احتجاج کیا گیا اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔امریکی شہر شکاگو میں مظلوم فلسطینیوں کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگائے ۔ برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں بھی شہری فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے ۔ ارجنٹینا میں اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر حملوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اس کے علاوہ ترکی کے شہر انقرہ، استنبول سمیت بنگلا دیش، اردن، لبنان، پاکستان، کوسوو، اسکاٹ لینڈ سمیت مختلف ملکوں میں احتجاج کیا گیا اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کرنے کے لیے سلامتی کونسل کا طلب کردہ اجلاس امریکا کی جانب سے مخالفت کے بعد ملتوی کردیا گیا۔اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اجلاس روک نہیں رہا۔ چاہتا ہے کہ یہ اجلاس بعد میں بلایا جائے۔امید ہے اس دوران سفارتکاری کو موقع ملے گا۔ ہم مشرق وسطیٰ پر کھلی بحث کے حامی ہیں۔انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ ہمارا موقف واضح ہے کہ راکٹ حملے رکنے چاہئیں کیونکہ اس سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انتھونی بلنکن سے یہ پوچھا جائے کہ چند اسرائیلیوں کی ہلاکت پر تو راکٹ حملے روکنے کا مؤقف دے دیا مگر جو اسرائیل میزائل حملے کر کے سینکڑوں فلسطینیوں کوشہید کر رہے ہیں، اس کا کیا جواز ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کی بے جا حمایت کی ہے اسی وجہ سے اسرائیل شتر بے مہار بن گیا ہے اور جب چاہتا ہے عرب ممالک اور فلسطین پر گولہ باری شروع کر دیتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کی درخواست پر مسلم ممالک کی تنظیم ’’آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘‘ کا آن لائن اجلاس طلب کیا گیا جس میں اسرائیلی بمباری اور مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں پْرتشدد کارروائیوں پر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ غور و خوص کے بعد مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں گے۔ اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم کا اجلاس اسرائیل کی جانب سے رواں ہفتے کے آغاز سے اب تک مسلسل غزہ پر بمباری کے بعد طلب کیا گیا۔ اسرائیلی حملوں میں میڈیا ہاؤس سمیت کئی رہائشی عمارتیں بھی زمین بوس ہوگئیں اور اب تک 140 سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں 30 سے زائد بچے بھی شامل ہیں جب کہ 900 سے زائد افراد زخمی ہیں۔