لاہور(رانا محمد عظیم)سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کے پاکستان کے تاریخی دورے کو متنازعہ بنانا اور دورے کے دوران سوشل میڈیا پر متنازعہ بیانات اور نفرت انگیز مہم چلا نے اور مختلف تنظیموں کے ذریعے احتجاجی مظاہرے کی کوشش کرنے میں دو سیاسی جماعتوں ،3 مذہبی جماعتوں اور13 این جی اوز کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے موقع پر با قاعدہ ایک پلاننگ کے تحت نہ صرف یہ سب کچھ کیا جا رہا تھا بلکہ دوغیر ملکی خفیہ ایجنسی اس قدر متحرک تھیں کہ بھاری فنڈنگ کر کے باقاعدہ احتجاجی مظاہروں کو کرانے کیلئے مختلف گروپوں کو تیار کیا گیا تھا ۔ترکی میں قتل ہونے والے صحافی ،یمن اور شام کے مسئلے کو ایشو کے طور پر مظاہروں میں استعمال کیا جانا تھا ۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والے 112ایسے اکاؤنٹس کے حوالے سے اداروں نے کوائف حاصل کر لئے ہیں، ان اکاؤنٹس کو باقاعدہ 2 سیاسی جماعتوں،3 مذہبی جماعتوں اور 13این جی اوز نہ صرف آپریٹ کر رہی تھیں بلکہ ان کے ذریعے نفرت انگیز مواد پھیلا جا رہا تھا ۔ذرائع کے مطابق کئی صحافیوں کوبھی اس حوالے سے تیار کیا جار ہاتھا کہ وہ مختلف پریس کلبوں کے باہر احتجاج کریں۔ذرائع کے مطابق قومی اداروں کی بہترین حکمت عملی کے تحت اقدامات کے باعث سعودی ولی عہد کی آمد پر کی جانے والی ناصرف اس سازش کو بے نقاب کیا گیا بلکہ ایسے تمام گروپوں کے خلاف، جو سوشل میڈیا پر منفی مہم چلاتے رہے ہیں، کارروائی کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسی جہاں ایک طرف اس تاریخی دورے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی، وہاں پر اس دورے کے دوران دہشتگردی کرانے کی بھی کوشش تھی جو پاکستان کے حساس اداروں نے ناصرف ناکام بنائی بلکہ اہم گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔