دین اسلام میں ایک قربانی ایسی بھی ہے جسے تاریخ کبھی بھلا نہ سکے گی۔ یہ خانوادہ نبی کریمؐ کے افراد ہیں۔ خانوادے کا ہر فرد بے مثال، با کمال ہے۔ گو نبی کریمؐ کو اپنے گھرانے کے ہر فرد سے بے حد لگائو تھا۔ لیکن جو خصوصی شفقت و پیار آپؐ کی پاک ، طیبہ ، طاہرہ، زاہدہ ، عابدہ ، ام ابیحہ، صدیقہ، شہیدہ ، سیدہ فاطمۃ الزہرہ سلام اللہ علیہا کو ملا وہ کائنات میں کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔ معلم انسانیت نے آپ سلام اللہ علیہا کی ایسی تربیت کی کہ رہتی دنیا تک آپ سلام اللہ علیہا صبر و شکر، پاکیزگی، حیا ، اور پردہ داری میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔اللہ رب العزت کی حکمت سے آپ سلام اللہ علیہا کا نکاح حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے طے پایا اور آپ سلام اللہ علیہا کے بطن اطہر سے خانوادہ رسول ؐ کو دو ایسے شہزادے نصیب ہوئے جنہوں نے پیدا ہوتے ہی پہلی آواز کائنات کے عظیم نبیؐ کی سنی،(اذان کی صورت میں) ، اللہ کے محبوب نبی کریمؐ کی زبان مبارک بطور گھٹی چوسی، یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام حسن و حسین علیہم السلام نے دنیا میں تشریف آوری کے بعد جوسب سے پہلا دیکھا وہ حضور اکرم ؐ کا چہرہ مبارک ، جو چیز چکھی وہ حضور اکرم ؐکا پاک لعاب دہن تھا۔ حضور اکرمؐ کی آغوش میں پرورش پانے والے ان شہزادوں کا اپنے نانا سے پیار والہانہ تھا، کبھی نبوت والے کاندھوں پر کھیلتے ، ’’او ادنیٰ ‘‘ کے مقام تک جانے والے نبی ان شہزادوں کے لیے گھوڑا بنتے، حضورؐ ان جنتی نوجوانوں کے سرداروں کے لب و رخسار چومتے۔ حضورؐ نے ایک جگہ ارشاد فرمایا: حسین علیہ السلام مجھ سے ہے اور میں حسین علیہ السلام سے ہوں‘‘ خصوصی طور پر امام حسین علیہ السلام کا گلا مبارک چومتے۔ آپؐ جانتے تھے کہ میرا یہ شہزادہ شہید کیا جائیگا۔ 10محرم الحرام کو حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے جانثار اصحاب نے بہادری و شجاعت کے جو جوہر دکھائے تاریخ اسلام میں آج بھی زندہ ہیں۔ اللہ پاک ہمیں حضور ؐ اور آپ کی آل پاک سے سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین (نبیل احمد نظامی)