واشنگٹن(نیٹ نیوز) امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ایران سے جوہری معاہدے میں واپسی کاراستہ طویل ہے ،اسرائیلی مفادات اور موقف کو مدنظر رکھیں گے ۔امریکی صدر اور موساد چیف کی بغیر شیڈول ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی،امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے پر اختلافات بدستور باقی ہیں ،تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے میں واشنگٹن کی واپسی کے لیے ابھی طویل راستہ طے کرنا باقی ہے یہ بات انہوں نے غاصب اسرائیلی حکومت کی خفیہ ایجنسی موساد کے سرغنہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ایکسس ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی حکومت کی خفیہ ایجنسی موساد کے سرغنہ یوسی کوہن کو اطمینان دلایا ہے کہ واشنگٹن آئندہ بھی اسرائیل کے موقف اور مفادات کو مدنظر رکھے گا۔اس رپورٹ کے مطابق یوسی کوہن نے بھی اس ملاقات میں ایٹمی معاہدے میں اصلاح سے قبل امریکہ کی واپسی کو ایک غلط اقدام قرار دیا ہے کہا جارہا ہے کہ امریکی صدر اور موساد کے سرغنہ کے درمیان یہ ملاقات جمعے کی شام جو بائیڈن سے اسرائیلی حکومت کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاھو کی ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد انجام پائی ہے ۔ایکسس ویب کا کہنا ہے کہ بائیڈن اور کوہن کے درمیان یہ ملاقات تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہی اور اس میں اسرائیلی وفد کا کوئی دوسرا رکن شامل نہیں تھا۔ جبکہ سی آئی اے کے سربراہ نکلولس برنز اور قومی سلامتی کے مشیر جک سالیوان صدر بائیڈن کے ہمراہ موجود تھے ۔