صنعا ( نیٹ نیوز ) یمن میں آئینی حکومت کی رٹ بحال کرنے کے لیے سرگرم عرب اتحاد نے عید کے روز یمن کے حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کی طرف اڑیا گیا ایک ڈورن طیارہ مار گرایا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اتحادی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ حوثی ملیشیا نے صنعاء سے ایک ڈرون سعودی عرب کی طرف اڑیا تاہم اسے فضاء ہی میں تباہ کردیا گیا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا بار بار سعودی عرب کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ حوثی شدت پسند نہ صرف سعودی عرب بلکہ اپنے ہی شہریوں پر ڈرون حملے کرکے اپنی دہشت گردی ثابت کررہے ہیں۔کرنل المالکی کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی طرف سے شہری آبادی پر توپ خانے اور میزائلوں سے حملوں کا سلسلہ بھی بڑھا دیا گیا ہے ۔ حوثی باغیوں کی طرف سے شہری آباد کو بمبار ڈرون طیاروں کی مدد سے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ حوثیوں کے زیراستعمال 'قاصف' یا 'لمھاجم' ڈورن طیارے ایرانی ساختہ'ٹی ابابیل' کی طرزپر بنائے گئے ہیں۔ادھرکل اتوارکے روز حوثی ملیشیا نے عمران گورنری سے دو بیلسٹک میزائل داغے جو حجۃ گورنری میں جا گرے ہیں۔حجۃ گورنری کے شہریوں اور قبائلی عمائدین نے میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے شہریوں کو نشانہ بنانے کی منظم سازش قرار دیا ہے ۔دریں اثنایمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی فورسز کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ اتحاد کی مشترکہ فورسز کی کمان نے آپریشنز ریجن میں ایک کارروائی کے نتائج کو حادثات کا جائزہ لینے مشترکہ ٹیم کے حوالے کر دیا ہے تا کہ کسی حادثے کے واقع ہونے کے امکان پر نظر کی جا سکے ۔سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کرنل المالکی نے مزید بتایا کہ اتحادکی مشترکہ فورسز کی کمان نے آپریشنز ریجن میں 11 اگست بروز اتوار ہونے والی کارروائیوں کے بعد کے اقدامات کا جائزہ مکمل کر لیا ہے ۔ باریک بینی کے ساتھ لیے جانے والے جامع جائزے اور کارروائیاں انجام دینے والے اہل کاروں کی وضاحت سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس روز حجہ صوبے میں "حوثی ملیشیا کے جنگجو عناصر کے جتھوں" کو نشانہ بنانے کے دوران شہریوں کے جانی نقصان کا امکان ہے ۔ اس بنا پر واقعے سے متعلق تمام دستاویزات حادثات کا جائزہ لینے والی مشترکہ ٹیم کو دے دیے گئے ہیں تا کہ وہ ان کا بغور جائزہ لے اور اس حوالے سے نتائج کا اعلان کرے ۔کرنل المالکی نے باور کرایا کہ اتحادی فورسز کی مشترکہ کمان نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اعلی ترین معیارات کو نافذ کرنے اور عسکری کارروائیوں میں بین الاقوامی اور انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرتی ہے اور حادثات کے وقوع سے متعلق تمام تر اقدامات کرتی ہے تا کہ ذمے داری اور شفافیت کے اعلیٰ ترین درجوں کو یقینی بنایا جا سکے ۔