ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ پاکستان میں کرپشن بڑھنے کی اطلاع دے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی چار درجے تنزلی ہوئی ہے۔ 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان 31 سکور کے ساتھ 124 ویں نمبر پر ہے۔ ٹرانسپرنسی نے اپنی رپورٹ میں بدعنوانی کے انسداد اور خاتمے کے لیے نیب اقدامات کی تعریف کی ہے۔ کرپشن کی درجہ بندی میں ہمسایہ ملک بھارت 85 ویں نمبر پر ہے۔ گویا بھارت میں بدعنوانی کی صورت حال ہماری نسبت کچھ بہتر ہوئی ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ بتاتی ہے کہ جہاں جہاں قانون کی عملداری اور بالادستی کا معاملہ درپیش تھا وہاں خاص طور پر کرپشن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو دیکھیں تو وزیراعظم عمران خان کے ان دعوئوں کی ناکامی معلوم ہوتی ہے جو وہ اقتدار میں آ کر کرپشن کے انسداد کے حوالے سے کیا کرتے تھے۔احتساب کا موجودہ عمل ،عوامی جوابدہی کا تصور اور قانون کی بالا دستی کا خواب تشنہ ء تعبیر معلوم ہوتا ہے ۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل برسوں سے اس طرح کی رپورٹس جاری کرتی آئی ہے۔کئی بار یہ رپورٹس متنازع بھی قرار پاتی رہی ہیںتاہم بدعنوانی میں اضافہ گورننس کی کمزوری اور برسراقتدار طبقے کے قانون شکنی میں ملوث ہونے پر سامنے آتا ہے۔ اس لحاظ سے تحریک انصاف کی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کے لیے یہ تشویش اور فکر مندی کا باعث ہونا چاہیے کہ ملک میں بدعنوانی کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ یہ امر لائق توجہ ہے کہ دولت کا کسی ایک طبقے تک محدود ہونا دوسرے طبقات کے مالیاتی جرائم کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ معاملہ ذرا مختلف ہے۔ پاکستان میں دولت کا غیرقانونی ارتکاز اصل میں جرائم اور محرومیوںکی وجہ ہے۔ دولت کسی پیداواری عمل اور سرمایہ کاری کے ذریعے سے بطور منافع کمائی جائے تو بہت سے لوگ مزدور‘ منیجر‘ تاجر اور خریدار بن کر اس پورے عمل سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ فائدہ اپنی نوع میں دولت کی تقسیم بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دولت کی تقسیم قانون کے مطابق رہے اس کے لیے ریاست معاوضے‘ تجارت‘ ملازمت‘ لین دین‘ بینکنگ اور ٹیکس کے قوانین بناتی ہے۔ فرد کی معاشی اور مالیاتی آزادی کا تحفظ کرتی ہے۔ روٹی روزگار کو حق زندگی کا درجہ دلاتی ہے۔ اگر کوئی شخص یا ادارہ ان قوانین کو توڑے تو اس کو سزا دی جاتی ہے۔ جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں کرپشن بڑھتی رہتی ہے۔ پاکستان میں کرپشن بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ریاستی اداروں میں سیاسی مداخلت ہے۔ پولیس‘ پٹوار‘ ٹیکس‘ بلدیہ‘ تعمیرات اور بجلی و گیس کے محکمے تک سیاسی مداخلت سے تباہ ہورہے ہیں۔ پی آئی اے ریلوے اور سٹیل ملز کا جو حشر ہو چکا ہے اس کی وجہ سیاسی بنیادوں پر ضرورت سے زیادہ افراد کی بھرتی ہے۔ حکومتوں کے پاس کوئی روزگار پالیسی نہیں رہی۔ ایک ہی طریقہ رائج رہا کہ اپنے سیاسی حامیوں کو سرکاری اداروں میں بھرتی کر کے انہیں روزگار دیا جائے۔ اس طریقہ کار سے وہ لوگ جو سیاسی حامی نہیں ہوتے ریاستی سرپرستی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس صورت حال میں ہمیشہ ترجیح یہ ہونی چاہیے تھی کہ حکمران اور بالادست طبقات کی مالیاتی و معاشی سرگرمیوں کی موثر نگرانی کی جائے۔ جو لوگ قانون کا احترام کرتے ہیں ان کے لیے حکومت مراعات کا اعلان کرے اور جو لوگ ریاست اور شہری حقوق کو غصب کریں ان کو پکڑا جائے۔ صورت حال یہ ہے کہ اہم سیاستدانوں‘ سرکاری افسران اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ڈھیر ساری معلومات موجود ہیں۔ حال ہی میں لاہور میں سرگرم 238 بدمعاشوں اور بھتہ خوروں کی ایک فہرست منظر عام پر آئی ہے۔ اس فہرست میں بہت سے نام اگرچہ شامل نہیں لیکن صاف پتہ چلتا ہے کہ قانون کی عملداری یقینی بنانے والے اداروں اور ذمہ داران نے غفلت بلکہ سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ برسہا برس تک اتنے زیادہ جرائم پیشہ افراد کا گروہ بنا کر لوگوں کی املاک پر قبضہ‘ ڈکیتی‘ جیب تراشی‘ بھتہ خوری اور غنڈہ گردی کرنا بتاتا ہے کہ کوئی ایسے طاقتور لوگ موجود ہیں جو ان خطرناک مجرموں کو آزاد رکھ کر ان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان دنوں وزیراعظم کی جانب سے سینٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کی بات کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ سینٹ کے لیے ووٹوں کی خریدوفروخت کا سلسلہ روکا جائے۔ حکومت اس ضمن میں آئینی ترمیم لانے کی خواہاں ہے۔ قوم سینٹ انتخابات میں خفیہ بیلٹ کا کاروبار کئی عشروں سے دیکھ رہی ہے۔ لوگ پیسے کے زور پر اراکین اسمبلی کے ووٹ خریدتے ہیں اور سینٹ کے رکن بن جاتے ہیں،یہ لوگ پھر اپنا ووٹ بیچ کر پیسے پورے کرتے ہیں۔ ایسے اراکین سینٹ پورے سیاسی اور ریاستی نظام کے لیے ایک خطرہ بنے رہتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اپنے ادوار میں ووٹوں کی خریدوفروخت کو بھگت چکی ہیں۔ تقریباً تمام جماعتیں اس روایت کو ختم کرنا چاہتی ہیں لیکن جب معاملہ قانون سازی کا آتا ہے تو سب ایک دوسرے کی مخالفت میں معاشرتی اور سیاسی آلودگی کو صاف کرنے کی تجویز کی مخالفت پر اتر آتے ہیں۔ تمام جماعتوں کو سماجی سطح پر ان افراد سے قطع تعلق کرلینا چاہیے جو جرائم پیشہ ہیں اسی طرح کسی وقتی اختلاف کے باعث اوپن بیلٹ والی تجویز کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔ اصلاح کا عمل کہیں نہ کہیں سے شروع ہونا چاہیے محض باتوں اور نعروں سے بدعنوانی کی وجہ سے محرومیوں کے شکار عوام کو تسلی نہیں دی جا سکتی۔