اسلام آباد لاہور (سپیشل رپورٹر، 92 نیوز رپورٹ) پنجاب میں آٹابحران کے سیاسی شخصیات اوربیوروکریٹس ذمہ دارنکلے ۔انکوائری رپورٹ وزیراعظم کوارسال کردی گئی۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی اداروں کی جانب سے 21 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بحران کے ذمہ دار بیوروکریٹس اورسیاسی شخصیات کی نشاندہی کردی گئی۔وزیراعلیٰ پنجا ب آفس کامحکمہ خوراک کے افسران کے تقرراورتبادلے سے متعلق کرداربھی رپورٹ میں درج ہے ۔رپورٹ کے مطابق محکمہ خوراک پر سیاسی دباؤ اور انتظامی نااہلی کی وجہ سے آٹا بحران پیدا ہوا۔ نومبر تک 1550 روپے فی من فروخت ہونے والی گندم کو1950روپے تک منصوبہ بندی سے پہنچایا گیا۔ دو ماہ قبل مارکیٹ میں گندم وافر مقدار میں موجود تھی لیکن دسمبر2019 میں گندم مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گئی۔ گزشتہ ماہ لاہورکی فلور ملز کا کوٹہ 50 سے کم کرکے 45 بوری اور راولپنڈی کی فلور ملز کا کوٹہ 25 سے بڑھا کر 30 بوری کیا گیا۔ذرائع کے مطابق دسمبر میں ہی اوپن مارکیٹ میں گندم کی فی من قیمت1550سے بڑھ کر1625اورپھربعد میں 1950روپے ہوگئی۔سیکرٹری خوراک وقاص علی محمود بھی فلور ملز کے کوٹے بڑھانے سے متعلق فیصلہ کرنے میں ناکام رہے ۔ چکی مالکان کو صاف شدہ گندم 2100 روپے فی من ملنے پر چکی مالکان نے بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آٹا بحران پر قابو کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔وزیر اعظم کے نوٹس لینے کے بعد افسران اور سیاسی افراد ایکشن میں آئے ۔ رپورٹ کل وزیراعظم کو پیش کی جائیگی۔