لاہور(گوہر علی)چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دینے والے اپوزیشن سینیٹرز کی تا حال نشان دہی نہیں ہوسکی ، اپوزیشن قائدین مشکوک سینیٹرز کے نام منظر عام پر لانے سے گریزاں ہیں جبکہ چیئر مین سینٹ صاد ق سنجرانی تحریک عدم اعتماد کے موقع پر انہیں ووٹ دینے والے اپوزیشن سینیٹرز کے ناموں کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔یکم اگست کو چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر اپوزیشن سینیٹرز کی خفیہ رائے شماری میں پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دینے کی تحقیقات کسی بھی نتیجہ پر نہ پہنچ سکی ہیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے اس معاملہ کی علیحدہ علیحدہ تحقیقات کی ہیں لیکن کئی روز گزرنے کے بعد بھی اس حوالے سے پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ذرائع کے مطابق جن اپوزیشن سینیٹرز پر پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دینے کا شک ہے ، پارٹی قائدین ان کے نام منظر عام پر لانے سے گریز کررہے ہیں، کیوں کہ اگر ان سینیٹرز کے نام منظر عام پر لائے گئے تو یہ سینیٹرز پارٹی سے ناراض ہوکر آئندہ بھی پارٹی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جبکہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان مشکوک سینیٹرز سے استعفیٰ لینے کی صورت میں اپوزیشن سینٹ میں کئی نشستوں سے محروم ہوسکتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق جب اپوزیشن کے یہ سینیٹرز منتخب ہوئے تو 2018کے عا م انتخابا ت کا انعقاد نہیں ہواتھا اور 2018کے عام انتخاب کے انعقاد کے بعد الیکٹرول کالج کی ترتیب بدل گئی ہے ، اب صوبائی اسمبلیوں میں تحریک انصاف کی نشستوں میں ا ضافہ کی وجہ سے اپوزیشن کے سینیٹرز مستعفی ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ حکومتی سینیٹرز منتخب ہوسکتے ہیں۔دوسری طرف چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی بھی تاحال غیر معمولی طور پر متحرک ہیں اور وہ اس تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے میں کردارا دا کرنے والے اہم حکومتی عہدیداروں سے رابط میں ہیں تاکہ مزید کسی مشکل سے محفوظ رہا جاسکے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی حمایت کرنے والے کسی اپوزیشن سینیٹرکانام منظر عام پر آئے ۔