لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار سینٹ کے سٹینڈنگ چیئرمین کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائی جارہی ہے ۔ہم سینٹ کو سیاست کا اکھاڑہ نہیں بنائیں گے ۔چینل92 نیوز کے پروگرام’’ہوکیارہاہے ‘‘میں میزبان فیصل عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن جب چیئرمین سینٹ کیلئے اپنے امیدوار کی نامزدگی کریگی تو پھر پتہ چلے گا کہ انکی تحریک کامیاب ہوگی یا ناکام ، تاہم انہیں سینٹ میں عددی اکثریت حاصل ہے ۔ ہم سارے سینیٹرزکیساتھ رابطے میں ہیں، ان کو سمجھا رہے ہیں آزاد ارکان ضمیر کی ا ٓواز پر ووٹ دیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں چیئرمین سینٹ کو ہٹانے پر متفق ہیں اس پر کسی کو تحفظات نہیں ۔ چیئرمین سینٹ کو ہٹوانے میں زیادہ ہاتھ حکومت کا ہے کیونکہ انکا رویہ ٹھیک نہیں ۔حکومت اپنا رویہ درست کرے ورنہ کوئی قانون سازی نہیں ہوگی۔ ہم سال سے کہہ رہے ہیں کہ احتساب نہیں انتقام ہورہاہے لیکن کوئی سنتاہی نہیں ۔ ہم نے آڈیو ٹیپ کو چانچ پڑتال کے بعد عوام کی عدالت میں پیش کیا ، حکومت اسکی مزید انکوائری کیلئے کمیشن بنا سکتی ہے ۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ سے اپیل ہے کہ وہ اس ویڈیو کا نوٹس لے ،اگر حکومت کچھ نہیں کریگی تو ہم جلدقانونی ماہرین کی مشاورت کے بعد اس کو عدالت میں انصاف کیلئے پیش کرینگے ۔ ہم عدلیہ سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ ویڈیو کا فرانزک ٹیسٹ کرائے جس پر حکومت کہتی ہے کہ ن لیگ اداروں پر حملہ کررہی ہے ۔اگر ایک جج کی ٹیپ نکلتی ہے تو پھر کیسے اس سے انصاف کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ ٹیپ کوسنجیدگی سے نہ لیا گیا تو مزید ٹیپس بھی پیش کرینگے جن میں بہت زیادہ لوگوں کے نام ہیں۔ کیا وزیراعظم این آراو دینے کا اختیار رکھتے ہیں، انکا رویہ آمرانہ ہے ۔ہم این آراو نہیں انصاف مانگ رہے ہیں جو مل نہیں رہا ۔ تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا کہ چیئرمین سینٹ سے فاٹا کے ارکان نے ملاقات کی اور اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا ۔ اپوزیشن کے پاس اکثریت ہے لیکن 30 سینیٹر ز آزاد ہیں جوکسی پارٹی ڈسپلن کے پابند نہیں۔تاہم لگتا نہیں کہ صادق سنجرانی بچ جائینگے ۔ فضل الرحمٰن 25 جولائی کے شو کی بڑی تیزی سے تیاری کررہے ہیں لیکن اس کیلئے حالات خراب ہورہے ہیں، لوگ مہنگائی سے تنگ ہیں جب ٹیکس پڑیں گے تو ہر چیز مہنگی ہوگی، ایسا کرکے حکومت اپوزیشن کاکام آسان کررہی ہے ۔