وفاقی حکومت نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی سفارشات منظور کرتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مقدمات کی جلد سماعت کے لئے عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی سفارش پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اسلام آباد کی عدالتوں کو وفاق کے زیر انتظام علاقے کے لئے حقوق انسانی کی عدالت مقرر کیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے 24اکتوبر کو سنٹرل جیل اڈیالہ میں معزز ججوں کے دورے کے بعد وزارت انسانی حقوق کو خصوصی عدالتوں سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں۔یاد رہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز ججوں کا دورہ اڈیالہ جیل امتیاز بی بی نامی خاتون کی زیر حراست تشدد کے خلاف شکایت کی انکوائری کے لئے کیا گیا۔ پاکستان انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کو تسلیم کرتا اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ریاست کو ذمہ دار سمجھتا ہے۔ اقوام متحدہ کے رکن ملک کے طور پر پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کام کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن اپنے طور پر ایسے کئی مظلوموں کا کیس تیار کر کے عدالتوں میں پیش کرتا ہے جنہیں پولیس اور عدالت سے انصاف نہیں مل رہا ہوتا۔ یا بوجوہ مظلوم اپنے حق کے لئے آواز بلند نہیں کر سکتا۔کسی طاقتور شخص یا برادری کے ہاتھوں کمزور پر ظلم کئی شکلوں میں دیکھا گیا ہے۔ سماج طاقت وروں کے ہاتھ یرغمال ہو رہا ہے۔جس کے پاس دولت اور اختیار ہے وہ بڑے سے بڑا جرم کرنے کے باوجود قانون کی گرفت سے دور رہتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں ہر روز ایسا کوئی نہ کوئی واقعہ رپورٹ ہو رہا ہے جس میں انصاف نہ ملنے پر مظلوم اپنے خاندان سمیت خودکشی کر لیتا ہے۔ پاکستان کے عدالتی نظام کی اپنی کئی مجبوریاں بن چکی ہیں۔کچھ وکلاء گروپ مرضی کا فیصلہ یا سفارش نہ ماننے پر عدالتوں میں ہنگامہ آرائی کرتے ہیں۔افلاس زدہ گھرانوں کی بیٹیوں کی عزت پامال کرنے والے عدالت میں وکٹری کا نشان بناتے ہوئے پیش ہوتے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیس‘ ایف آئی اے اور دیگر چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں۔بے گناہ افراد کو گرفتار کرتے ہیں‘ حالیہ دنوں ایسی کئی گرفتاریاں اور زیر حراست تشدد کے واقعات سامنے آئے جنہوں نے انسانی حقوق ہی نہیں سیاسی سطح پر بھی تشویش پیدا کی۔ملک بھر کے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ہاں انسانی حقوق سیل کام کر رہے ہیں۔آئین کے آرٹیکل 2کے تحت شہریوں کو حاصل بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ پیش نظر رکھ کر یہ سیل شکایات وصول کرتے اور ان پر سماعت کے لئے اعلیٰ عدلیہ کی توجہ مرکوز کراتے ہیں۔سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل کی نگرانی براہ راست چیف جسٹس کرتے ہیں۔کسی شکایت کے موصول ہونے کے بعد متعلقہ اداروں اور حکام سے ان کا موقف لیا جاتا ہے۔بہت سی شکایات ابتدائی مرحلے میں ہی نمٹا دی جاتی ہیں ، جو تفصیلی کارگزاری کا تقاضا کرتی ہیں انہیں ضروری تیاری کے بعد معزز عدالت میں سماعت کے لئے مقرر کر دیا جاتا ہے۔قابل تحسین امر یہ ہے کہ یہ طریقہ کار اب تک بے شمار افراد کو معمول کی مہنگی قانونی لڑائی سے بچا کر انصاف فراہم کر چکا ہے۔اس طرح کی قانونی کارروائی کے دوران کئے گئے انتظامی اقدامات نے کئی طرح کی اصلاحات کی بنیاد ڈالی ہے۔ سپریم کورٹ کا انسانی حقوق سیل اب تک پتنگ بازی‘ ونی‘ کاروکاری سمیت کئی معاملات کو نمٹا چکا ہے جو عام انسان کی زندگی کو خطرات کا شکار بنائے ہوئے ہیں۔ جیلیں سماجی امن کے دشمنوں کے لئے بنائی جاتی ہیں۔وطن عزیز میں جیلوں کا استعمال طاقتوروں کے سامنے سر اٹھانے والوں کو قید میں ڈالنے کے لئے کیا جاتا ہے۔جیلوں کا نظام اپنی خصوصیات کے اعتبار سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی منظم شکل بن چکا ہے‘ قانون تاکید کرتا ہے کہ تمام شہری برابر ہیں۔جیلوں میں منشیات اور جنسی جرائم عام ہیں‘ مجرم محفوظ فصیلوں میں بیٹھ کر باہر کی خلاف قانون سرگرمیاں جاری رکھے ہوتے ہیں۔قیدی خواتین اور بچوں کا جنسی استحصال ہوتا ہے۔ گویا جرائم پیشہ افراد کو ایک محفوظ ٹھکانہ دیدیا جاتا ہے جہاں وہ کسی قانونی گرفت کے خدشے سے آزاد رہ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔جیلوں میں افلاس زدہ اور کمزور پس منظر کے حامل افراد کے ساتھ گھنائونا سلوک کیا جاتا ہے۔جن کے پاس رقم ہوتی ہے وہ قیدی بیماری کی آڑ میں جیل کے ہسپتال منتقل ہو جاتے ہیں ۔ یہ صورتحال اس وقت مزید پریشان کن ہو جاتی ہے جب قید پوری کرنے والے قیدی محض چند ہزار روپے ہرجانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے برسہا برس تک جیل میں سڑتے رہتے ہیں۔ گویا ناانصافی اور انسانی احترام کے منافی صورتحال ہے جو سماج اور جیلوں میں پرورش پا رہی ہے۔ ماتحت عدلیہ اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی جانب سے جیلوں کے دورے اور قیدیوں کی شکایات سننا معمول کا کام ہے۔پاکستان کی عدالتوں میں لاکھوں مقدمات ہیں جو فیصلوں کے منتظر ہیں۔ ججوں کی تعداد کم ہے‘ انصاف کا نظام کئی طرح کی رکاوٹوں اور مسائل کا شکار ہے۔اس صورتحال میں معمول کے مقدمات کی سماعت مشکل ہو رہی ہے۔دوسری طرف یہ بھی ممکن نہیں کہ جیل کی فصیلوں کے اندر اور سماج میں پرورش پاتے ان رویوں کو بے قابو ہونے کی اجازت دیدی جائے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مشتمل ہیں۔انسانی حقوق کی الگ عدالتوں کے قیام سے مخصوص مقدمات کے انصاف تک محدود رہنے سے بڑھ کر فیصلوں کے بعد بھی مظلوموں کے تحفظ کے معاملات پر عدالتی نگرانی ممکن ہو سکے گی۔اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شناخت ایسے ملک کے طور پر ابھر سکتی ہے جہاں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے قانونی اقدامات کو اہمیت دی جاتی ہے۔