پاکستان میں چینی سرمایہ کاری المعروف سی پیک ایک انقلابی معاشی عمل ہے جس سے ہمارے ملک میں معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑاسلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ موٹرویز تعمیر کی جارہی ہیں‘ بجلی کے منصوبے لگا کر توانائی کی ضروریات پوری کی گئیں اور بین الاقوامی تجارت کرنے کو گوادار بندرگاہ بنائی گئی۔ سی پیک دراصل چین کے ون بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کا ایک حصہ ہے جسکا مقصد چین کی تجارت کو فروغ دینا اور اسکے بین الاقوامی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا ہے ۔ اس پروگرام کے تحت چین نے 64 مختلف ملکوں میں سڑکیں‘ ریلوے لائنیں اور دیگر سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کیے۔ ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اس پروگرام میں چین کا بھی نفع ہے اور پاکستان کا بھی۔ چین کو تجارتی راستہ درکار ہے اور ہمیں سرمایہ کاری۔ عالمی معیشت میں چین کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ سال چین کی بین الاقوامی تجارت کا مجموعی حجم ساڑھے چار ہزار ارب ڈالر تھا۔ اگر اس تجارت کا چارپانچ فیصد حصّہ بھی پاکستان کے ذریعے ہونے لگے تو ہمارے ملک میں معاشی سرگرمی کو بہت فروغ مل سکتا ہے۔ہمارے دلدّردور ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ سال چین کی برآمدات اسکی درآمدات سے ساڑھے تین سو ارب ڈالر زیادہ تھیں۔ چین اس فاضل سرمائے سے امریکی ڈالر یا ٹرژری بلز خریدتا ہے جن پر بہت کم منافع ہوتا ہے۔ اگریہ فاضل سرمایہ پاکستان جیسے ملکوں میں سڑکوں‘ ریلوے اور بجلی کے منصوبوں میں لگایا جاتا ہے تو زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔ دونوں ملکوں کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔ پاکستان جس علاقہ میں واقع ہے اس کا چین سے قدیم زمانے سے تجارتی تعلق رہا ہے۔ گلگت سے سنکیانگ کے علاقہ کاشغر تک 460 کلومیٹر لمبا تجارتی راستہ تھا جسے سلک روڈ یا شاہراہ ریشم کہتے تھے۔اب اسے جدید سڑک بنادیا گیا ہے۔ سی پیک کا بڑا مقصد اسی شاہراہ ریشم کی توسیع ہے۔ پاکستان کے جنوب میں واقع گوادر بندرگاہ کو چین کے شمال مغربی صوبہ سنکیانگ سے جوڑنا ہے۔ اس لیے تین ہزار کلومیٹر طویل موٹروے تعمیر کی جارہی ہے‘ نئی ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ بھی پائپ لائن میں ہے۔ صوبہ بلوچستان میں بحر ہند پر واقع گوادر گرم پانی کی بندرگاہ ہے یعنی یہاں پانی سردی کے موسم میں جمتا نہیں‘ نقل و حمل ہوتی رہتی ہے اور اسکے گہرے سمندر میں بڑے بڑے‘ جدید بحری جہاز لنگر انداز ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف سنکیانگ یوریشیا کا اہم تجارتی محور ہے۔ اس کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ساتھ منگولیا‘ کرغستان‘ روس‘ قازقستان‘ بھارت‘ افغانستان اور تاجکستان سے متصل ہیں یا قرب رکھتی ہیں۔ سنکیانگ کا دارالحکومت شہر اُرمچی چین اور وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان چلنے والی ریل گاڑیوں کا مرکز ہے۔ اگر پاکستان صنعتی ترقی کرتا ہے تو وسط ایشیا اور یورپ سے تجارت کے لیے یہ زمینی راستہ مددگار ثابت ہوگا۔ چین کیلیے سی پیک کی طویل مدتی یا تزویراتی اہمیت یہ ہے کہ اِسے بحر ہند تک آسان رسائی مل جائے گی اور بیرونی تجارت کے لیے اسکا انحصار مکمل طور پر بحر جنوبی چین پر نہیں رہے گا۔ اگر امریکہ اور اسکے اتحادی کسی وقت بحر جنوبی چین میں مشکلات کھڑی کریں تو چین کے پاس متبادل سمندری تجارتی راستہ بحر ہند میںگوادر بندرگاہ کی صورت میں موجود ہوگا۔ بحر ہند عالمی تجارت میں خاص اہمیت کا حامل ہے جہاں سے دنیا کا بحری تجارت سے جانے والا اسّی فیصد تیل گزرتا ہے۔ بحری تجارتی راستوں کا دنیا کی معیشت میں خاص مقام اور اسٹریٹجک (تزویراتی) اہمیت ہے۔ دو سو سال تک برطانیہ نے بحری راستوں پر حکمرانی کی۔ جب برطانیہ کا زوّال ہوا تو امریکہ نے ان راستوں کی تھانیداری سنبھال لی۔ امریکہ کا مفاد اس بات میں ہے کہ زیادہ سے زیادہ تجارت ان بحری راستوں کے ذریعے ہو تاکہ دنیا پر اسکی چودھراہٹ قائم رہے۔ چین نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ان کا متبادل زمینی تجارتی راستہ بنانا شروع کیا جسے ون بیلٹ اینڈ روڈ کا نام دیا گیا۔ چین سنکیانگ سے وسط ایشیا تک ریل لنک بناچکا ہے اور اس کے ذریعے تجارت بھی شروع کرچکا ہے۔ اسی منصوبہ میں توسیع کرکے پاکستان کو بھی شامل کیا گیا۔ چین تو اس پروگرام میں ایران کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے اور گوادر بندرگاہ کو ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے بھی سڑک کے ذریعے منسلک کرنا چاہتا ہے۔ چاہ بہار کی بندرگاہ افغانستان کے چار بڑے شہروں بشمول ہرات‘ قندھار‘ کابل اور مزار شریف سے منسلک ہے۔ افغانستان چین کو زمینی راستے سے ایران کے ساتھ منسلک کرتا ہے۔ کئی برسوں سے تجارتی مال سے لدی ٹرینیں چین سے اُزبکستان اور وہاں سے دریائے آمو پار کرکے افغانستان جا رہی ہیں۔ چین چاہتا ہے کہ بڑی شاہراہیں تعمیر کرکے بلوچستان کو بھی افغانستان سے جوڑ دیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان گزشتہ ایک سال میں چین کے تین دورے کرچکے ہیں۔ آخری دورہ اسی ماہ کے شروع میں کیا گیا جس میں وزیراعظم نے کہا کہ چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری یعنی سی پیک کی تکمیل ان کی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اس دورہ پر جانے سے قبل وفاقی حکومت نے چین کو مثبت سگنل دینے کی خاطر سی پیک سے متعلق دو قوانین آرڈیننس کے صورت میں جاری کیے۔ اِن قوانین کے تحت سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور گوادر کی بندرگاہ اور وہاں قائم کیے جانے والے صنعتی زون کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی۔ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کے باعث پاکستان پر غیرملکی قرض لینے پر کچھ پابندیاں عائدہیں۔ اسی کے باعث سی پیک کے کچھ بڑے منصوبے شروع کرنے میں قدرے تاخیر ہوئی ہے۔ گزشتہ مالی سال چینی سرمایہ کاری کی مالیت دو ارب ڈالر تھی جو اس سال کم ہوکر ساڑھے چار سو ملین ڈالر رہ گئی ہے۔تاہم اب تجارتی خسارہ قابو میںآچکا ہے اور معاشی بحرا ن دُور ہوگیا ہے۔پاکستان کو سی پیک پر عمل درآمد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے ہی کسی بڑے منصوبہ پر کام شروع ہوگا ملک میں معاشی ترقی کی شرح بھی تیز ہوجائے گی اور اس مندی سے جان چھوٹے گی جس کا اِس وقت ہم شکار ہیں۔چین کی مدد سے ہمیں کم سے کم ایک صنعتی زو ن کو جلدسے جلد مکمل کرنے کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے تاکہ کارخانے لگیں اور لوگوں کو روزگار ملے۔ سی پیک پر عمل درآمد تیز کرنے کیلیے کسی ٹیکنوکریٹ یا سیاستدان کو مقرر کرنا چاہیے۔ روایتی افسر شاہی پر معاملات کو چھوڑا گیا تو ہر کام تاخیر سے ہوگا۔بدنامی سیاسی حکومت کے حصّہ میںآئے گی۔