اسلام آباد(اظہر جتوئی) چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) 22 منصوبوں میں سے 11 مکمل ہوگئے ،ان منصوبوں سے پاکستان کی معیشت میں بہتر ی آئیگی،سی پیک منصوبہ کے تحت 129 ارب کی لاگت سے تیار ہونے والی285 کلومیٹر طویل ڈیرہ اسماعیل خان۔ہکلہ موٹروے ٹریفک کیلئے اگلے سال جون میں کھول دی جائیگی جبکہ ۔کراچی موٹروے کا ملتان۔ سکھر سیکشن یکم اکتوبر سے عام ٹریفک کیلئے کھول دیاجا ئیگا،جسکے بعد 6 گھنٹے کا سفر ساڑھے 3 گھنٹوں میں طے ہوگا۔رشکئی خصوصی اکنامک زون میں درپیش مسائل پر جلد از جلد ختم کرکے رواں ماہ کے آخر تک سنگ بنیاد رکھ دیا جائیگا۔سی پیک سیکرٹریٹ کی رپورٹ کے مطابق سی پیک منصوبے سے پاکستان کی معیشت بہتر ہو گی۔ چین پاک اقتصادی راہداری کے 22 منصوبوں میں سے 11 مکمل ہوچکے ہیں جبکہ بقیہ 11 زیرتعمیر ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری ایک خطہ ایک شاہراہ اقدام کا اہم ترین منصوبہ ہے اور چین کی حکومت اسے بہترین نمونے کے طور پر پیش کررہی ہے ۔ سی پیک کے تحت مختصر عرصے میں بڑی تعداد میں منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کے مطابق رشکئی خصوصی اکنامک زون میں درپیش مسائل پر جلد از جلد ختم کرکے رواں ماہ کے آخر تک سنگ بنیاد رکھ دیا جائیگا۔ حکومت خصوصی اکنامک زونز کیلئے مراعات کی فراہمی سے متعلق پر عزم ہے ۔ حکومت گوادر میں 300 میگاواٹ کول پاور پلانٹ، کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، تھر کول پراجیکٹس اور اورنج لائن ٹرین منصوبے سمیت دیگر منصوبوں پر کام کررہی ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان ہکلہ موٹروے پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے اور اسے اپنے ہدف کے مطابق جون 2020ء میں مکمل کرکے ٹریفک کیلئے کھول دیا جا ئیگا۔ ڈیرہ اسماعیل خان۔ہکلہ موٹروے پراجیکٹ سی پیک کے انفراسٹریکچر کی بہتری سے متعلق پراجیکٹس میں شامل ہیں۔ یہ موٹروے تکمیل کے مرحلے کے بعد نہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان کو فتح جنگ کے توسط سے اسلام آباد سے ملانے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں کو بھی معاشی ترقی کے نئے مواقع فراہم کریگا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت کراچی لاہور موٹروے کا ایک بڑا اور اہم حصہ سکھر۔ ملتان موٹروے مکمل ہونے کے بعد 6 گھنٹے کا سفر ساڑھے 3 گھنٹوں میں طے ہوگا۔ 2 ارب 89 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی 392 کلومیٹر طویل سڑک کو مقررہ مدت سے 2 ماہ پہلے مکمل کیا گیا ہے ۔