دنیا تبدیلیوں کی زد میں تھی،انگریزوں کا یونین جیک تہہ کیا جارہا تھااور ملکہ برطانیہ کی سلطنت سکڑ سمٹ چکی تھی۔ اس منظرنامے میں پاکستان اور بھارت کے ساتھ ایک بڑے خطے پر آباد چین کوکوئی خاطر میں لانے کو تیار نہ تھا،1947ء میں ہندوستان کا بٹوارہ ہوا اور دو برس بعد اقتدار کے لئے خانہ جنگیوں میں الجھے چین نے بھی یہ خونیں ریشمی ڈوریں توڑ ڈالیں یہ وہ وقت تھا جب دنیا امریکہ اور سوویت یونین میں بٹ رہی تھی ،نصف دنیا پر سرخ پھریرے لہرانے لگے تھے۔ 1949ء میںچین بھی اسی فہرست میں شامل ہو گیا۔ آزادی کے بعددو دہائیوں تک ترقی کی جانب پرواز کرنے والے ممالک نے چین کو ’’فارغ‘‘ ممالک کی فہرست میں ڈالے رکھا تھا ،اپنے مزاج کی وجہ سے چینی دیوار چین کے پار کی دنیامیں جگہ نہیں بنا پا رہے تھے لیکن ایسا نہیں تھا کہ چین کی کمیونسٹ قیادت اپنے ہی خول میں سمٹی ہوئی تھی۔ بدلتے وقت کے بدلتے تقاضے چینی قیادت سے پوشیدہ نہ تھے وہ دیکھ رہے تھے کہ تبدیلیاں آرہی ہیں اور پھر ایسے میں چین کے پڑوس میں ہندوستان پر قابض انگریزوں کے قدم بلآخر اکھڑچکے ہیں بھارت اور پاکستان کے نام سے دو ریاستیں وجود میں آچکی ہیں ان میں نومولود پاکستان نے ہمکنے کے ساتھ ہی امریکہ کی طرف لڑھکنا شروع کردیا ہے قائد ملت لیاقت علی خان امریکہ کا دورہ کرکے امریکی بلاک میں شمولیت کا عندیہ دے چکے تھے دوسری جانب بھارت نے ماسکو کا انتخاب کیاتھا۔ سوویت یونین بلاک میں ہونے کی وجہ سے بھارت اور چین کے تعلقات نسبتا دیگر ممالک کے زیادہ اچھے ہونے چاہئے تھے لیکن بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات دونوں ممالک کو دور لے گئے اور دشمن کا دشمن دوست ہونے کے مصداق چین او ر پاکستان فطری طور پر ایک دوسرے کی جانب متوجہ ہوگئے۔1951ء میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور1962ء میںبھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع پر جنگ نے پاکستان اور چین کے درمیان ایسے تعلقات کی بنیاد ڈالی جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے گئے،پاکستان چین کے لئے بیرونی دنیا کی کھڑکی بن گیاجہاں سے دنیا چین کو دیکھ سکتی تھی ، ساٹھ کی دہائی میںچین تنہائی کا شکار تھاایسے میں پاکستان نے چین کا ہاتھ تھام کر تھپھتپایا اسے تسلی دی اور ساتھ کھڑاہوگیا،پی آئی اے کسی بھی غیر کمیونسٹ ملک کی پہلی ائیرلائن تھی جسکے طیارے نے چینی سرزمین کو چھواتھا اس لینڈنگ کے بعد سے پاک چین تعلقات کی پرواز بلندیوں کی جانب ایسی گامزن ہے کہ اسے اب تک لینڈنگ کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔پاکستان چین تعلقات کی پرواز کو’’سی پیک ‘‘ کے گیم چینجر منصوبے سے مزیددوام ملا ہے،چینی کمیونسٹ پارٹی نے پچاس کی دہائی میں (great leap forward)یعنی ایک ہی نسل میں زیادہ سے زیادہ ترقی کا تصور دیا تھا یہ منصوبہ پاک چین تعلقات کا (great leap forward) ہے،اس پروجیکٹ سے پاکستان میں غیر معمولی صنعتی ،ٹیکنالوجی اور تعلیمی تغیر کی امیدیں ہیں تو دوسری جانب سی پیک سے چینی اشیاء کو منڈیوں تک رسائی کے لئے سستا اور کم طویل راستہ ہاتھ لگ رہا ہے۔ اس منصوبے سے خائف قوتیں اس کے خلافپروپیگنڈہ کررہی ہیں،دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کررہی ہیں یہاں تک بھی کہا جارہا ہے کہ سی پیک میں پاکستان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے اب پاکستانی ہاتھ ملتے رہ جائیں گے لیکن ایسا نہیں پاکستان کے لئے سی پیک کے ثمرات ناریل کے پیڑ پر لگا پھل ہیں جسے صرف دیکھا جاسکتا ہے ہاتھ نہیں لگایا جاسکتاپھر سوال یہ ہے کہ ہم سی پیک کے ثمرات سے کیسے مستفید ہوں ؟ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی میں 12 ستمبر 2015ء کوجامعہ کراچی شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسرمونس احمر نے ایک لیکچر دیتے ہوئے کہا تھا کہ چینیوں کو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کا علم ہے وہ اس سے بخوبی واقف ہیں اور وہ اسے کچھ زیادہ خاطر میں بھی نہیںلاتے اصل مسئلہ ہمارے یہاں پھیلی ہوئی بدعنوانی اور سستی ہے۔ سی پیک پر کام ہو رہارہے اورسرمایہ کاری بھی جاری ہے اسکی رفتار پر سوال کیا جاسکتا ہے لیکن یہ کہنا غلط ہوگا کہ سی پیک ’’ٹھنڈا‘‘ ہو گیا ہے۔ پاکستان میں چینی سفیریاؤجنگ نے کراچی ہی میںدو ماہ پیشتر ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ اب تک سی پیک پربتیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے اس میں تیرہ ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری بھی شامل ہے ،چینی سفیر کے مطابق ایم ایل ون منصوبے کا دوسرا راؤنڈ بہت جلد شروع ہونے والا ہے اس میں چین پاکستان کے صنعتی اور مینو فیکچرنگ سیکٹر کی صلاحیت بہتر بنانے میں معاونت کرے گا،یہاں ٹیکنالوجی سینٹر قائم کئے جائیں گے،ماڈل ویلج بنائے جائیں گے اسی نشست میں چینی سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ گوادر بندرگاہ کمرشل بنیادوں پر فعال ہے،ہر ہفتے ایک جہاز گوادر پر آکر ٹھہرتا ہے ،گوادر کے فری اکنامک زون میں سرمایہ کاری کے لئے گیارہ بڑی کمپنیوں نے درخواستیں دی ہیںسرمایہ کاری پالیسی کی منظوری کے ساتھ ہی گوادر میں فیکٹریوں کی تعمیر شروع ہوجائے گی،گوادر میں انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر بھی اب زیادہ دور نہیں جبکہ یہاں تین سو میگاواٹ کا پاور پلانٹ اورسمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹ بھی اپنے تعمیر کے آغاز سے قریب ہیں چینی سفیر کی گفتگو یقینا حوصلہ افزاء ہے ،چینی یہاں تاریخی سرمایہ کاری کررہے ہیں ،پاکستان میں سیاسی استحکام اورامن و امان کی صورتحال ان کی سرمایہ کاری پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے ،سامنے کی بات ہے ہم بھی کسی ایسے محلے میں دکان کیوں کھولیں گے جہاں دن بھر کی دکانداری کے بعد واپسی پر راہزن پسٹل دکھا کر ہمیں لوٹ کر چلتا بنے یا ہم کسی ایسے سست الوجود مزدور کو اپنے کام پر کیوں لگائیں گے جو نصف دن بیٹھا اور نصف دن گپ شپ میں لگا دے چینیوں جیسی ترقی کرنے کے لئے ہمیں بھی چینی بنناپڑے گاان کے ساتھ چلنا ہو گا ،وہ ہماری خاطر کچھ دور تک تو رفتار کم کرسکتے ہیں لیکن ہماری رفتار سے رفتار ملا کر اپنی سرمایہ کاری کیوں متاثر کریں گے ؟جامعہ کراچی کے پروفیسر مونس احمر نے غلط نہیں کہا کہ چینیوں کو ہماری ذہانت صلاحیت پر کوئی شک نہیں بس ان کے لئے مسئلہ ہمارے یہاں خودرو جنگلی گھاس کی طرح پھیلی کرپشن اور ہڈ حرامی ہے ،اس ’’قومی بیماری‘‘ نے ہمارے پلٹلٹس ایسے گرائے ہیں کہ اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہے چیئرمین نیب کا یوم انسداد بدعنوانی کے روز خطاب ہمارے لئے آئینہ ہے ہم اس میں اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیںہمارے یہاں پچیس احتساب عدالتوں میں بارہ سو سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں اگر یہ عدالتیں چوبیس گھنٹے بھی لگی رہیں تو ان مقدمات کا فیصلہ برسوں میں ہوگا۔