اسلا م آباد (وقائع نگار خصوصی،آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جب ریڈار نہیں چل رہے تھے تودو بھارتی طیارے مار گرائے ، اگر ریڈار چل رہے ہوتے تو مودی صاحب سوچیں کیا ہوتا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان پر امریکہ کی طرف سے کوئی ویزہ پابندی عائد نہیں کی گئی ،ویزہ پابندی پاکستانی شہریوں نہیں بلکہ 3 سرکاری افسران پر ہے ۔ ایران امریکہ کشیدگی میں پاکستان کا فیصلہ اپنے مفاد میں ہوگا۔منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس چیئرمین احسان اﷲ ٹوانہ کی زیر صدارت ہوا ۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خارجہ پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 27 جون کو سفارتکاروں کا اجلاس بلایا ہے جسکا مقصد معاشی سفارتکاری کا فروغ ہے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کمرشل اتاشیوں کی کارکردگی دیکھ کر انکی مدت ملازمت کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ جو سفارت کار کام نہیں کر رہا اس کا ہم نے اچار ڈالنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بیرون ملک سفیروں کی مدت ملازمت ان کی کارکردگی سے مشروط کردی ہے ۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ 18اور 19مئی کو وہ کویت کا دورہ کریں گے اور کویتی امیر کو وزیراعظم کا خط پہنچائیں گے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ، پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ، ایران اور امریکا کشیدگی میں کسی کیمپ کاحصہ نہیں بنیں گے ، اپنے مفاد کو دیکھ کر حکمت عملی ترتیب دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ایران پرپابندیوں کی وجہ سے کوئی ادارہ پاک ایران گیس منصوبے کو فنڈ کو تیار نہیں، ہم ایران سے اس رکاوٹ کودورکرنے کیلئے بات کررہے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قطر نے پاکستانی باسمتی چاول پر پابندی عائد کی تھی جس کیلئے معاملہ اٹھایا ہے ، بھارت پاکستان کا باسمتی چاول اپنے نام سے عالمی مارکیٹ میں فروخت کررہا ہے ۔ پاکستان جی سی سی ممالک کے ساتھ ایف ٹی اے کرنا چاہتا ہے مگر انکے اپنے تنازعات رکاوٹ ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان امن عمل میں پاکستان کا اہم کردار ہے ، افغان امن عمل میں کئی چیزیں بہتر ہوئی ہیں تاہم ابھی انٹرا افغان مذاکرات میں دقت ہے ۔ طالبان امریکہ سے براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں جبکہ ہم انٹرا افغان مذاکرات کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، جب مذاکرات میں ناکامی ہوتی ہے تو پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کوئٹہ دہشتگردی اور داتا دربار دھماکہ پاکستان مخالف قوتیں کروا رہی ہیں، افغانستان کو امریکہ چلا رہا ہے ،آج پیسے بند کر دے تو افغانستان نہیں چل سکتا ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ویزہ پابندی معاملہ پر امریکی سفارتخانے نے بھی وضاحت جاری کر دی ہے ، ویزہ پابندی پاکستانی شہریوں پر نہیں بلکہ وزارتِ داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری سمیت 3افسران پر لگی ہے ۔ امریکہ نے ملٹی پل ویزے کے حوالے سے کچھ تبدیلیاں کی ہیں جس پر بات چیت جاری ہے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی خواتین کی چینی شہریوں سے شادیوں کے معاملے پر چینی قیادت سے رابطے میں ہیں، یہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو خراب کرنے کی سازش ہے ، معاملہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے ۔وزیرخارجہ نے کہا ہماری قونصلر سروسز میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ، بیرون ملک سفارتخانوں کو اپنا رویہ بدلنے کا کہا ہے ۔