دمشق ( نیٹ نیوز) شام کے کے شمال مغربی شہر ادلب کے قریب دہشتگر د گروپ نے اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ کے مزار پر حملہ کردیا اور قبر سے باقیات نکال لیں، سرکاری حمایتی سوشل میڈیا پیجز پر اپ لوڈ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ معرۃ النعمان سٹی کے قریب دیر شرقی میں دہشت گرد گروپ کے افراد ان کی قبر کو اکھاڑ رہے ہیں۔ ایک دوسری ویڈیو میں کھلی ہوئی قبر دکھائی جارہی اور یہ خالی پڑی ہے ، اس قبر میں باقیات موجود نہیں، فروری میں شامی صدر بشار الاسد کی فورسز نے اس علاقے پر قبضہ کیا تو مزار کے اطراف میں آگ لگا دی تھی اور مزار کو شدید نقصان پہنچایا تھا، حضرت عمر بن عبد العزیز آٹھویں اموی خلیفہ تھے اور ان کے دور کو خلاف راشدہ کے منہج پر قرار دیا جاتا ہے ، 717 سے 720 عیسوی تک اپنے دو سال اور پانچ ماہ کے دور حکومت میں انہوں نے شاندار اصلاحات کی تھی ۔انہوں نے وہی طرز عمل اختیار کیا جو خلفائے راشدین کا تھا۔آپ کی والدہ محترمہ ’’امّ عاصم‘‘ امیرالمومنین سیّدنا عمر بن خطابؓ کی پوتی ہیں۔ واقعہ کیخلاف دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور اس واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ مفتی منیب الرحمن نے اپنے رد عمل میں کہا دہشت گردوں نے حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ اور انکی اہلیہ کی قبریں کھول کر آگ لگا دی ۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا یہ ایک ناقابل برداشت عمل ہے بزرگانِ دین اور شیر اسلام کے مقبرے کو آگ لگانا ظلم ہے ہمارے حکمرانوں کو اس قبیح عمل پر سخت ایکشن لینا چاہیے ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز فوت ہوئے تو قیصر روم بازنطینی ایمپائر کے بادشاہ نے کہایہ اگرعیسائی ہوتے ہم انکوراہب سینٹ کادرجہ دیتے ، آج دہشت گردوں نے باقیات کو قبر سے نکال کر جلا دیا کیونکہ عمر بن عبدالعزیز عمر بن خطاب کا نواسہ ہم نام ہے ۔ ہمیں فخر ہے اپنے ایسے اسلاف پرجنہوں نے کفر پر ایسے وار کیے جس کے لیے صدیوں بعد دشمن کو ہتھیاروں سمیت بوسیدہ قبر پر حملہ کرنا پڑا، عمر بن عبد العزیز ؓ کی جرات کو سلام ہو ان پر لعنتیں ہوں جنہوں نے قبور کی بے حرمتی کی، ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی نے واقعہ کی بھرپور مذمت کی اور کہا امت مسلمہ کو اس حوالے سے متحد ہوکر لائحہ عمل اپنانا چاہیے ، علامہ طاہر اشرفی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا اس معاملے پر او آئی سی کو ایکشن لینا چاہیے ، علما کونسل آج اس حوالے سے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ سید عدنان کا کا خیل نے ٹویٹ میں کہا اس حرکت پر پوری امت مسلمہ کو ایک متفقہ موقف اپنا نا چاہیے ۔ دیگر علما کرام نے بھی واقعہ کی پرزور مذمت کی۔