لاہور ( رانا محمد عظیم) سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے خلاف ایک اور نیب کیس تیار،ان سمیت سابق دورحکومت کے وزیر اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ سمیت چار بڑے بیوروکریٹس اور شہباز شریف کی منظور نظر وہیکل انسپیکشن سرٹیفیکیٹ سسٹم حاصل کرنے والی سویڈش کمپنی’’اوپس‘‘ نیب کے ریڈار پر آگئی ۔ سابق صوبائی حکومت کی جانب سے غیر ملکی کمپنی کو کن قوانین کے تحت پراجیکٹ دیا گیا، اس کے عوض حکومت کو کیا ملا، کتنا ریونیو اکٹھا ہوا ،کتنا سرکاری خزانے میں جمع کرایا گیا، ٹھیکہ دینے سے پہلے محکمہ ٹرانسپورٹ کے پاس فٹنس سرٹیفیکیٹ کی مد میں کتنا ریونیو آتا تھا اور اب کتنا آتا ہے ، نیب کی طرف سے جاری لیٹر نمبر 1(33)/HQ/CV/3744/18/NH-DD/NAB-L کے مطابق چھ مئی تک نیب نے تمام ریکارڈ طلب کیا تھا جس پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے ریکارڈ جمع کرا دیا ہے ۔نیب کو بھیجے گئے ریکارڈ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق ریکارڈ میں لکھا ہے کمپنی کوٹھیکہ دینے سے پہلے فٹنس سرٹیفیکیٹ کی مد میں پانچ سال میں ایک ارب سے زائد کا ریونیو اکٹھا ہوا تھا جبکہ اس وقت فیس 350 روپے تھی ۔ شہباز شریف اور ان کے ایک قریبی عزیز کی سفارش پر جب سویڈش کمپنی اوپس کو ٹھیکہ دیا گیا تو اس وقت سے اب تک ان کی طرف سے کسی بھی شہر میں ان کے بنے ہوئے سینٹر سے حکومت کو کوئی ریونیو نہیں اکٹھا ہوا۔ وہ پیسے کہاں گئے ، کون افسران لیتے رہے ،کن کی سفارش پر پچھلے دور حکومت میں ان کو پوچھا تک نہ گیا، کے حوالے سے بھی رپورٹ میں لکھا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سویڈش کمپنی کو وہیکل انسپکشن سرٹیفیکیٹ سسٹم دینے میں سابق حکمران خاندان، چند بیوروکریٹس اور ایک سابق صوبائی وزیر ملوث تھے ۔کمپنی کو نوازنے کیلئے مہنگی ترین اراضی سستے ترین ریٹس پر قانون اور ضابطے سے ہٹ کر دی گئی اور اس سے حاصل کیا جانے والا کرایہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس کے عوض سابق حکمران خاندان کی ایک اہم شخصیت جو نیب کے مقدمات میں مفرور ہے اپنا حصہ وصول کرتی تھی ۔کمپنی نے ایسی ٹرانسپورٹ کو بھی فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کئے جواس کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتی تھی، اس مد میں کمپنی کو کروڑوں روپے اکٹھے ہوئے تاہم ایک روپیہ بھی قومی خزانے میں جمع نہ کر ایا گیا البتہ یہ سابق حکمرانوں اور بیوروکریٹس کی جیبوں میں ضرور گیا ۔