سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر کی سماجی کارکن شہلا رشید نے انتخابی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو جائز قراردینے کے عمل کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی میں سٹوڈنٹس یونین کی سابق نائب صدر شہلا رشید نے کہاکہ وہ کشمیر میں بلاک ڈویلپمنٹ کونسل کے انتخابات کرانے کے بھارتی حکومت کے اعلان کے بعد یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوئیں جہاں سخت پابندیاں عائد اور مواصلاتی ذرائع مسلسل معطل ہے ۔ ایک بیان میں انہوں نے بلاک ڈویلپمنٹ کونسل کے انتخابات کو شرمناک قراردیتے ہوئے کہاکہ بھارتی حکومت یہ انتخابات دنیا کو یہ بتانے کے لیے کررہی ہے کہ بھارت اب بھی ایک جمہوریت ہے ، بھارتی حکومت کشمیری بچوں کو مسلسل اغوا کررہی ہے ،کشمیریوں کو ایمبولینس اور دیگر ہنگامی سروسز سے بھی محروم رکھا جارہا ہے ،بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جب کشمیر کا معاملہ آتا ہے تو وہ اپنے ہی قانون کا احترام نہیں کرتی، ایک سماجی کارکن کے طورپر کام جاری رکھوں گی اور ناانصافی کے خلاف ہرمحاذ پر آواز بلند کرتی رہوں گی، میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اورجموں وکشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ واپس کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر توجہ مرکوز کرونگی ۔