مجھے ان کی نئی کتاب ’’داستاں ہونے کے بعد ‘‘پر لکھنا تھا مگر اندازہ نہ تھا کہ میں اس وقت انہیں اپنے کالم کا موضوع بنائوں گی جب وہ خود داستان ہو چکی ہوں گی۔ کل جب سے شمع خالد کی وفات کی خبر نے دل کو ایک گہرے پچھتاوے سے دوچار کر دیا ہے۔ کل سے یہ خبر سنی ہے تو دل بے طرح اداس ہے۔بار بار سوچتی ہوں کہ میں نے اتنی دیر کیوں کی۔ اگرچہ کتاب پڑھنے کے بعد میں نے انہیں فون کر کے تفصیلی فیڈ بیک دی تھی۔ اگرچہ وہ ایسی درویش اور اعلیٰ ظرف انسان تھیں کہ کتاب بھیجنے کے بعد کبھی اس پر کالم لکھنے کی فرمائش نہ کی نہ کبھی کہا کہ اس کا ذکر اپنی تحریر میں کرنا۔ ہم کالم نگاروں کو اکثر اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کتابیں آتی رہتی ہیں، تو ساتھ فرمائش بھی ہوتی ہے ، کالم لکھنے کی۔ مگر کالم چونکہ حالات حاضرہ سے جڑا ہوتا ہے ،اس لئے ہر کتاب پر لکھا بھی نہیں جا سکتا، بعض اوقات تو کتاب بھیجنے والے اپنی ناراضی کا اظہار بھی کرتے ہیں مگر وہ ایسی نہیں تھیں۔ممتاز براڈ کاسٹر‘ بہت عمدہ افسانہ نگار عزم حوصلے محبت خلوص اور حس جمالیات سے بھری ہوئی شمع خالد ایسی ہی تھیں۔ ان کے پاس صرف دعا اور محبت تھی۔ زندگی انہوں نے اسی عشق میں گزاری کہ محبت کی اور محبت بانٹی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے کیا ،بطور براڈ کاسٹر ریڈیو پر نمایاں حیثیت میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ ضیاء مارشل لاء کے دور میں صدارتی تقریبات کی کوریج کی۔ بہت سے ان دیکھے دلچسپ واقعات کی چشم دید گواہ تھیں، جو انہوں نے اپنی ریڈیو کے حوالے سے یادداشتوں میں تحریر کیا۔’’میں اور میرا ریڈیو‘‘ کے عنوان سے شمع خالد صاحبہ کی یادداشتیں ممتاز صحافی محمود شام کے زیر ادارت چھپنے والے میگزین اطراف میں قسط وار آتی رہی ہیں۔ بہت دلچسپ سلسلہ تھا، میں باقاعدگی سے اسے پڑھتی رہی ہوں ،انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر بے شمار ڈرامے لکھے۔ ریڈیو کے سکرپٹ لکھے افسانہ ان کا میدان تھا۔ کئی افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔سات برس پہلے ان کی ٹانگ کا فریکچر ہو گیا۔ جس سے وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئیں بھر پور چاق و چوبند زندگی گزارنے والی تخلیق کار اپنے گھر اور وہیل چیئر تک محدود ہو گئیں مگر پھر بھی انہوں نے اپنا تخلیقی اظہار جاری رکھا۔میں ان کی ہمت اور حوصلے پر حیران ہوں کہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا۔ وائس آف امریکہ میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی اور بطور براڈ کاسٹر وہاں اپنے تجربات اور مشاہدات شیئر کئے۔ معذوری کے ان سات برسوں میں فریکچر ٹانگ کے متعدد آپریشن ہوئے۔ درد ‘تکلیف، بار بار سرجری کے بعد بھی انہوں نے یہ امید قائم رکھی، کہ ایک دن وہ ٹھیک ہو جائیں گی۔ اگرچہ اخیر میں ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اب انہیں معذوری کے ساتھ ہی زندگی گزارنا پڑے گی۔ کیسی پرعزم اور حوصلے سے بھری ہوئی خاتون تھیں، کہ مسلسل درد اور تکلیف کے باوجود، انہوں نے اپنے اظہار کا سفر ایک پل کے لئے نہیں روکا۔ وہ اپنا کام کرتی رہیں، پہلے ’’اطراف ‘‘میں امریکہ کا سفرنامہ چھپتا رہا۔ اس کے بعد ریڈیو سے وابستہ اپنی یادداشتوں کا سلسلہ 16اقساط کی صورت مکمل کیا۔اپنی والدہ کی وصیت کے مطابق اپنی آخری کتاب’’ داستاں ہونے کے بعد ‘‘لکھی جو دراصل ان کی والدہ کی داستان حیات ہے، جس میں شمع خالد خود بھی کہانی کے ایک اہم کردار کی حیثیت سے پڑھنے والے کو نظر آتی ہیں۔ داستان ہونے کے بعد ایک ایسے خاندان کی کہانی ہے‘ جس میں بچے اپنے والدین کے درمیان ذہنی اور جذباتی ہم آہنگی نہ ہونے کے سبب ایک نفسیاتی تکلیف سے گزرتے ہیں۔کتاب کے آغاز میں‘ اپنی بات میں شمع خالد نے لکھا کہ یہ ناول نہیں وہ زخم ہیں، جو ایک ماں نے اپنی بیٹی کے سینے میں منتقل کئے ،امی کی موت کے بعد یہ ڈائری ان کے سامان سے ملی تھی ،اس میں مجھے مخاطلب کر کے وصیت کی گئی تھی کہ میں ان کی کہانی لکھوں۔ کسی بھی ناول کا پہلا جملہ ایک ایسی کھڑکی کی طرح ہوتا ہے جہاں سے نظر آنے والا منظر آپ کو مجبور کرتا ہے کہ آپ دروازہ کھولیں اور منظر کا حصہ بن جائیں۔ مستنصر حسین تارڑ لکھتے ہیں کہ: ناول کا پہلا جملہ لکھنا میرے لئے سب سے مشکل ہوتا ہے۔ سوانحی ناول‘ داستان ہونے کے بعد کا پہلا جملہ یہ ہے۔وہ میری ماں سے بیٹی کب بنی۔ ہاں یاد ہے تو صرف اتنا کہ ہم دونوں نے میوزیکل چیئرز گیم کھیلتے ہوئے، ایک دوسرے کی کرسی بدل لی۔شاید اس دن جب میں آٹھ برس کی عمر میں ایک دن جوان ہو گئی تھی ابو جان امی کے پیچھے پیچھے کمرے میں جا رہے تھے، تو میں دیوار کی طرح تن کر کھڑی ہو گئی اور اونچی آواز میں کہا آپ امی کو ہاتھ لگائیں گے تو بہت برا ہو گا۔ وہ واقعی وہاں سے مڑ کر چلے گئے۔ امی نے متشکرانہ انداز میں مجھے دیکھا، اس دن میں ایک دم بڑی ہو گئی تھی، جیسے میں ان کی محافظ ہوں‘‘ سوانحی ناولوں میں اس قدر تلخ سچائی شاید ہی کسی نے اس سہولت سے بیان کی ہو ،جیسی شمع خالد نے کی ’’داستان ہونے کے بعد‘‘ ناول میں کی۔ سچ کا یہ بہائو اس قدر طاقتور ہے کہ میں نے کتاب پڑھنے کے لئے اٹھائی تو اسے ختم کر کے ہی واپس رکھا۔عجیب بات یہ ہوئی کہ کل ان کی وفات کی خبر ملی۔میں ویمن جرنلسٹ کے ایوارڈ کی تقریب سے واپس آئی، تو اطراف کا تازہ شمارہ موجود تھا ،جلدی سے کھولا اور شمع خالد کے سلسلہ وار یادداشتیں’’ میں اور میرا ریڈیو‘‘ کا صفحہ دیکھا۔ حیرت انگیز طور پر اس پر لکھا تھا میں اور میرا ریڈیو۔ آخری قسط ان کی فیس بک وال پر دیکھا تو آخری پوسٹ انہوں نے اپنے مرحوم شوہر کے ساتھ اپنی تصویر کی لگائی تھی ۔کیپشن تھا۔ خالد کے ساتھ میری آخری تصویر۔!اور یہ آخری تصویر ان کی آخری پوسٹ بھی تھی حیرت انگیز طور پر میں نے ایک ماہ پہلے یہ شیڈول کیا تھا کہ مارچ کے دوسرے ہفتے میں ویمن ڈے کے حوالے سے ان کی کتاب پر لکھوں گی۔میں اپنے شیڈول کے مطابق لکھ رہی ہوں مگر خود شمع خالد‘داستان ہو چکی ہیں‘اللہ ان کی روح پر اپنی رحمتوں کا سایہ رکھے‘ آمین۔