فیورٹ پاکستانی ٹیم کا ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں سفر مایوس کن انداز میں ختم ہوگیا ہے۔کپتانی، بیٹنگ، باولنگ، فیلڈنگ غرض ہر شعبہ آخری دو میچوں میں ناکام دکھائی دیا۔ سپر فور مرحلے میں میزبان سری لنکا نے پاکستان کی مضبوط ٹیم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر کردیا۔ہمیشہ میدان میں دو پہلوان اترتے ہیں ،جن میں سے ایک پہلوان نے جیتنا اور ایک نے ہارنا ہوتا ہے ۔اگر کوئی لڑ کر ہارے تو شائقین اس کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ، پاکستانی ٹیم نے ابتدائی میچز میں اچھی کارکردگی دکھائی مگر آخر ی میچ میں حارث روف ،نسیم شاہ،امام ،سلمان اور سعود شکیل ان فٹ ہو گئے اور کچھ کا بیٹ ہی نہ چل سکا۔جبکہ مینجمنٹ بھی سری لنکا میں سیر کرتی رہی ۔جس بنا پر پاکستان ٹیم بھارت کی طرح سری لنکا کیخلاف بھی بہت دبائومیں کھیلی، کوئی پلان نظر نہیں آیا،پاکستان کا ہتھیار اس کے بولر تھے لیکن پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستانی بولنگ فیل ہوگئی۔ محمد وسیم اور زمان خان نا تجربہ کاری کی وجہ سے پریشر برادشت نہ کرسکے۔ زمان خان مستقبل کا ہیرو ہے ،اس کی بھر پور حوصلہ افزائی کرنی چا ہیے ۔اسپنرز کا جادو بھی نہ چل سکا۔دنیا کا مضبوط ترین بولنگ اٹیک بے جان دکھائی دیا۔اسی بنا پر پاکستان کا فائنل کھیلنے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔پاکستانی ٹیم کوایشیا کپ کے دوران اپنی خامیوں کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے تاکہ ورلڈکپ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے ۔