عام مشاہدہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں جو کچھ بھی کرتاہے اپنے تئیں صحیح سمجھ کرکرتاہے ۔آدمی شاذونادر ہی خود کو غلط سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ کسی سے اُس کی غلطی منوانا اکثر ناممکن نہیں تومشکل ضرورہوتاہے کسی بھی شخص کے لیے یہ نہایت مشکل کام ہوتاہے کہ وہ روز مرہ کے معمولات میںخود کو غلط سمجھے۔ آدمی جو کچھ بھی کرتاہے اُس وقت تک ہی ایسا کرتاہے جب تک کہ اُسے صحیح سمجھتا ہے جس دن اُس نے کسی بھی بات یا عمل کو اپنے روز مرہ کے معمولات سے ہٹ کر غلط سمجھ لیا اُس دن سے اُس کی زندگی یکسر بدلنا شروع ہوجائیگی ۔ اِسلئے کہ وہ پہلے کی نسبت اب اپنے اس عمل کو صحیح سمجھنے لگ جاتا ہے جسے پہلے وہ غلط سمجھتا تھا۔ یہ انقلابی مرحلہ آدمی کی زندگی میںبہت کم آتا ہے کیونکہ یہ اس کی زندگی کو مکمل طور پر بد ل کر رکھدیتاہے ۔ آدمی اپنے قائم کردہ معیاروں یا اُن کسوٹیوں پر پرکھتے ہوئے اپنے طرز عمل کو صحیح یا غلط سمجھتاہے جو اُس نے خود بنا رکھے ہوتے ہیں ۔مثلاً میںسمجھتا ہو کہ صبح کی سیر ایک بہترین عمل ہے اسی لئے میں صبح اُٹھنے کے بعد منہ ہاتھ دھوکر اور باقاعدہ تیاری کے ساتھ صبح کی سیر کو نکل جاتاہوں جس قدر فاصلہ اور وقت میںنے اِس مقصد کے لئے اپنے حساب سے مقرر کررکھا ہوتاہے اس کے مطابق روزانہ سیر کرتاہوں ۔ میرا یہ معمول میری کسوٹی بن جاتاہے ۔کیوں؟ اِس لئے کہ میرا یہ معمول مجھے صحت مند، تندرست توانا رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتاہے میرا نظام انہظام درست کام کرتاہے دن بھر میں ہشاش بشاش رہتاہوں ۔ صبح کی سیر کی وجہ سے میں دیگر ضروری کام بھی وقت پر انجام دیتا ہوں اپنے دفتر بھی وقت پر جاتاہوں اور بچوں کو اسکول بھی وقت پرچھوڑ سکتاہوں۔ بیوی کی فرمائشیں پوری کرنے کے لئے دن بھر چاک وچوبند رہتاہوں میری ذات پر ان سب باتوں کے مثبت اثرات نے صبح کی سیر کو میرے لئے ایک کسوٹی بنادیاہے میری صبح کی سیر اِس حد تک میرے اعصاب پر سوار ہوجاتی ہے کہ میں اب دوسرے لوگوں کو بھی اسی صبح کی سیر کی اپنی بنائی ہوئی کسوٹی پرہی پرکھنے او رجانچنے لگ جا تا ہوں ۔ میری کسوٹی کا ماخذ کیا ہے ؟ کیا میری اِس کسوٹی کا ماخذ صحت وتندرستی کی حفاظت ہے؟ دفتر وقت پر جانا ،بچوں کو وقت پر اسکول چھوڑنا ہے یا بیوی کے لطف وکرم کو قائم رکھنا ہے؟ اگر ان سب مقاصد کو میں صبح کی سیر سے جوڑ دیا ہے تو اس کا صاف صاف مطلب یہی نکلے گا کہ میری صبح کی سیر مندرجہ بالا دیگر تمام باتوں پر حاوی ہے۔ دوسری باتیں صبح کی سیر کی نسبت ثانوی درجہ کی حامل ہیں یعنی میراوقت پر دفتر جانا ، بچوں کو وقت پر اسکول چھوڑنا اور بیوی کے لطف وکرم کو قائم رکھنا میری صبح کی سیر سے زیادہ ہرگز اہم نہیں ہیں یہاں سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا کسی شخص کی خود ساختہ کسوٹیاں اُسکے پیاروں کے خلوص اور محبت پر حاوی ہوسکتی ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے توپھر آدمی کے صحیح یا غلط طرز عمل کی کسوٹی کیاہوسکتی ہے؟ ایک بات تو واضح ہوگئی کہ آدمی کی خود ساختہ کسوٹیوں کے ماخذ اُس کی ذات کے اندر ہی محدود ہوتے ہیں جو آدمی کی سوچ وفکر کو ناک سے آگے دیکھنے کے قابل ہی نہیں چھوڑتے جب آدمی لکیر کا فقیر ہوجائے تو اُسکے اندر کا ہر جوہر کنویں کے مینڈک کی طرح سوائے ٹر ٹر کرنے کے اور کسی کام کا نہیں رہتا ۔اگر خود ساختہ کسوٹی قابل اعتبار اور پا ئیدار نہیں ٹھہرائی جاسکتی تو پھر کون سی کسوٹی ہے جسے ناقابل تردید مانا اور سمجھا جاسکے؟ جس کے مطابق کیا گیا عمل صحیح اور جس کے خلاف کیاگیا عمل غلط مانا او رسمجھا جائے۔ اکیسویں صدی کے معجزات ،ترقی اور اڑان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے سب سے پہلے تو کسوٹیوں کی حقیقت کو پرکھنا اور جانچنا ہوگا۔کیوں؟ اس لئے ’’ جو شا خ نازک پے آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا‘‘ ہمیں پائیدار کسوٹیوں کو تلاش کرناہوگا۔ ان پائیدار کسوٹیوں کو تلاش کرنا ہوگا جن کی افادیت کی حقیقتوں سے انکار ممکن نہ ہو۔ جو آفاقی اور ازلی سچائیوں کی حامل ہوں جن کسوٹیوں کو ’’میں نامانوں ‘‘ کی رٹ کے علاوہ کسی اور طریقے سے جھٹلایا نا جاسکے ۔ یہ دوطرح کی کسوٹیاں ہوسکتی ہیں ۔ ایک طبیعاتی اور دوسری مابعدطبیعاتی ایک نظر آ نے والی اور ٹھوس کسوٹیاں اور دوسری نانظر آنے والی مگر حقیقی کسوٹیاں جدید دنیا طبیعاتی کسوٹیوں یعنی سائنسی کرشموں اور معجزات سے طرح طرح کے انگنت فوائد اور سہولتوں سے دن رات لطف اندوز ہورہی ہے انسان اب مریخ پر کمندیں ڈال رہاہے ،فضائوں کو مسخر کررہاہے ،پانیوں سے پوشیدہ خزانوں کوکھنگال رہاہے، زمین کے اوپر اور نچے اس کی رسائیوں نے تہلکے مچارکھے ہیں، اس لئے کہ جن طبعیاتی کسوٹیوں پر انسان نے آگے بڑھنا شروع کیاہے انھیں جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ انھیں تبدیل نہیں کیا جاسکتا ان کے اثرات کو کم یا زیادہ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ اٹل حقیقتیں ہیں ان کا انکار کرنا اور انھیں تسلیم نہ کرنے والا صرف شرمندہ ہی ہوسکتاہے کسی بھی کسوٹی کا ایساہی ہونا چاہے کسوٹی اگر ناقابل تردید ناہو تو کسی بھی قسم کا نیتجہ دینے سے قاصر ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف مابعدالطبعیاتی کسوٹیاں ہیں جو نظرنا آنے کے باوجود اٹل اور ناقابل تغیر حقیقتوں کی عکاس ہوتی ہیں مثلا ً دو جمع دو، چار کو دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیںسکتی اسلئے کہ یہ حسا ب کی طاقت قوت اور ناقابل تردید حقیقت کوواضح کرتی ہے سچ ایک ایسی ہی مابعد الطبعیاتی اصول اور طاقت ہے۔ جسے جھوٹ کی ساری طاقتیں ملکر بھی نہیں جھٹلاسکتیں۔ سچ اچھائی او رنیکی کی باقاعدہ شکل ہے ایسی روشن ومنور شکل جو ہر سو روشنی پھیلا دیتی ہے جھوٹ بدی کی وہ باقاعدہ شکل وصورت ہے جس کی بدنمائی غلاظت او ر وحشت کسی بھی سچائی کو مٹاتو ہر گز نہیںسکتی لیکن اس پر پردوں کی دبیز تہیں اس طرح چڑھادیتی ہے کہ لمحوں سے لے کر صدیوں تک سچ چھپ جاتاہے۔ سچ ایک اور جھوٹ بے شمار ہوتے ہیں جس طرح روشنی ایک اور تاریکیاں انگنت ہوتی ہیں دونوں میںفرق کیاہے؟ طبعیاتی کسوٹیاں معروضی ہوتی ہیں جبکہ ما بعد طبیعاتی کسوٹیاں موضوعی ہوتی ہیں یعنی ایک کسوٹی کی نوعیت بیرونی ہوتی ہے اور دوسری کی کیفیت اندرونی ہوتی ہے ایک کو آسانی کے ساتھ دکھا یا اور سمجھا یا جاسکتاہے جبکہ دوسری کو صرف سمجھا جاسکتاہے۔ دونوں کا آپس میںتعلق کیا ہے؟ دونوں کسوٹیوں ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں ایک کے بغیر دوسری نامکمل ہے دونوں ایک دوسرے کے بغیر ناقابل فہیم بھی ہیں معروضی کسوٹیا ں ظاہر رہتی ہیںجبکہ موضوعی کسوٹیاں طرح طرح کے پردوں میںچھپی رہتی ہیں ان پردوں کو ہٹانے کے لئے بینائی کعبے کی چار دیوار ی سے چھلک چھلک کرآتی ہے اس کے لئے اقبال کی چشم بینا چاہئے جس کا اعلا ن ہے کہ گمراہ نہ کرسکا مجھے جلوہ ء دانش فرہنگ سُرمہ ہے میر ی آنکھ کا خاک مدینہ ونجف یہ سرمہ ہماری آنکھوں کی ضرورت ہے تاکہ معروضی کسوٹیاں کی طرح اندرون کسوٹیا ں بھی ہمیں صاف صاف نظر آنے لگ جائیں۔