غزہ پر امریکہ کے لے پالک اسرائیل کی طرف سے گزشتہ دس روزسے مسلسل دہشت گردانہ حملوں اوروحشیانہ بمباری سے سرزمین انبیاء فلسطین خون سے لت پت ہے۔ تادم تحریر150فلسطینی مسلمان شہید جن میں 42 پھول جیسے معصوم بچے اور کلیوںجیسی ننھی معصوم بچیاںاور38 عفت مآب خواتین شامل ہیںجبکہ 1200سے زائد زخمی جن میں سے درجنوں موت وحیات کی کشمکش میں ہیں، 500سے زائد گھر تباہ ہوچکے ہیں۔مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی لہومیں ڈوبی لاشیں ، انسانی بستیوں پربمباری سے اٹھنے والے دھویں کے مرغولے اور مسمار ہوئے گھر ملبے کے ڈھیرمیں تبدیل ہونے کی ویڈیوز دیکھ کردل خون کے آنسوروتاہے۔ سرزمین انبیاء فلسطین57 مسلم ممالک پر مسلط حکمرانوں کی بے حسی پرماتم کناں ہے کہ جنہوں نے ڈیڑھ ارب سے زائدنفوس پرمشتمل امہ مسلمہ کاگل اگھونٹ رکھا ہے اور اسے اف تک نہیں کرنے دیتے۔کاش یہ بزدل حکمران ہاتھ کھڑے کرکے یہ اعلان کرتے کہ ہم اورہماری فوجیں بے ہمت،بے بس،بے مروت، اور شکست خوردہ ہیں اورہمارے اسلحہ خانے زنگ آلودہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے ہماری زیرتسلط مملکتوں کے عوام سر زمین فلسطین کارخ کریں ہم مشترکہ بطور پراپنے اپنے باڈر کھول کر انہیں اس امرکا اذن عام دیتے ہیں۔ بس اس ایک اعلان کی ضرورت ہے ،بس ایک صداکافی ہے پھر دیکھیں کہ مسلم ملکوں کی بستیوں میں صرف خواتین اور نحیف بزرگ ہی نظرآئیںگے باقی سارے کے سارے اہل فلسطین کی مدد کوپہنچ جائیں گے اورلمحوں میں سرزمین انبیاء اور القدس کو اس طرح آزاد کراکے دم لیںکہ خطے میںکہیںایک یہودی بھی بچ نہیں پائے گا۔ یہ کوئی مزاحیہ نہیں بلکہ صرف 30 برس قبل سوویت یونین کی شکست وریخت کی زندہ اورتابندہ مثال ہمارے سامنے ہے ۔سوویت یونین کو ملک یاکئی ممالک کی فوجوں نے شکست نہیں دی بلکہ یہ امت مسلمہ کے وہ شیر تھے جوعرب وعجم سے افغانوں کی مددکرنے افغانستان پہنچے تھے۔امریکہ اور یورپ کا شاطر دماغ امہ کے ان شیروں کی طاقت کوبھانپ چکا تھا اسی لئے مجاہدین جنہیں وہ ’’مجاہڈین‘‘کہتے تھے کو سوویت یونین کے بکھرجانے کے بعد ’’دہشت گرد‘‘کے نام سے پکارنے لگے ۔ گویہ طے ہے کہ جب تک القدس پر ناجائز صیہونی ریاست کا زبردستی تسلط قائم ہے تب تک فلسطینیوں کی روح مزاحمت بھی زندہ ہے ۔ فلسطین کی مائیں یہ لوریاں گاگا کر کہ تم القدس کے بیٹے ہو، تمہیں القدس آزادا کرانا ہے‘‘ اپنے بیٹوں کواپنی آغوش میںپالتی ر ہیں گی۔ لیکن سرزمین انبیاء کے شہداء کی پاک روحیںجنت کے بالاخانوں سے کہہ رہی ہیں کہ القدس کی بازیابی کے لئے کسی مسلم حکمران سے کوئی امیدنہ رکھی جائے بلکہ القدس کی آزادی کے لئے آج پھر صلاح الدین ایوبی کی ضرورت ہے جوامہ کے شیروں کے دلوں میں موجود جہاد کی روح کوآنچ دے کر بیدار کرے اور قم باذن اللہ کاحکم دے کر سرزمین انبیاء پرپڑائو ڈالے اورالقدس میں داخل ہو جائے۔ اگرچہ حماس نے سامان حرب وضرب کے اعتبارسے اپنی ناتوانی کے باجود ملت اسلامیہ فلسطین کے قومی امنگوں اورملی مطالبات پر قائم رہتے ہوئے اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت جاری رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔ لیکن المیہ دیکھئے کہ عرب حکمران اسرائیل کے بجائے حماس کو ہی یہ کہتے ہوئے مطعون کررہے ہیں کہ وہ اسرائیل پرراکٹ داغ رہی ہے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ تف ہے !عرب وعجم کے مسلمان ممالک پر مسلط بزدل حکمرانوں پر جو امریکہ کو اربوں ڈالر دے کراس کی معیشت کومضبوط بنا تو رہے ہیں مگر امریکہ سے اسکے لے پالک بچے اسرائیل کی کھلی سفاکیت روکو ا نہیں پاتے۔ افسوس عالم اسلام کے بڑے بڑے علماء اور ائمہ پر جو اپنے حکمرانوں کے درباروں میں بیٹھ کر ان کے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے افسوسناک طرزعمل اختیارکئے ہوئے ہیں، مگر اسرائیلی یہودیوں کے قبلہ اول کی بے حرمتی پر اور فلسطینیوں کے قتل عام پر اپنے حکمرانوں کو غیرت نہیں دلاتے۔ بھاری بھرکم فوج اور مال وودلت کی فروانی رکھنے والے عرب وعجم کے مسلمان ممالک پرمسلط بزدل حکمران مسجد اقصی کی بے حرمتی اور غزہ کے مسلمانوں کے رقص بسمل کانظارہ کررہے ہیں۔ ویسے بھی ان میں سے کسی کا گلہ بھی نہیں۔ عرب ملکوں کے حکمران جدت پسندی کے نام پر زنا اور شراب کے اڈے بنارہے ہیں اورجوکوئی ان کے کاموں پرتنقیدکی حد تک بات کرے توان کی گردنیں اڑادی جاتی ہیں ۔ اپنے کاموں کی توسیع اورانہیں فروغ دینے کیلئے انہوں نے حماس اور اخوان المسلمون کا مکمل طور پر گھیرائو کر رکھا ہے۔ یہی صورتحال عجم کے مسلم حکمرانوں کی ہے کہ وہ اپنے اقتدار اور کرسیاں بچانے کے چکروں میں ہیں۔ اکتوبر1973ء میںجب عرب اسرائیل کی جنگ میں پہلے اسرائیل جنگ ہارگیا تھا لیکن امریکہ کی عملی امداد سے جنگ کاپانسہ پلٹ گیااوراسرائیل شام اورمصرکے بہت اندرتک گھستاچلاگیا۔اس موقع پرشاہ فیصل نے ایک غیرت مندانہ فیصلہ لیتے ہوئے امریکہ ،کینیڈا،برطانیہ ،جاپان ،ہالینڈ،پرتگال ، رہوڈشیا اور افریقہ کوتیل کی ترسیل بندکردی جنہوں نے اسرائیل کی اس جنگ میں عملی مددکی تھی ۔ اس اقدام سے امریکہ اوریورپ میں ایک بڑابحران پیداہوا۔انکی سٹاک ایکسچینج کی مارکٹیں زوال سے دوچارہوئیں۔ایسی صورتحال امریکہ اوریورپ کے لئے ناقابل برداشت تھی اورتین ماہ کے اندراندرہی امریکہ اوریورپ نے گھٹنے ٹیک لئے ۔صدرنکسن کے قدم ڈگمگائے اس نے اسرائیل کے پوری صورتحال رکھ دی اوراسے نہ صرف جنگ بندی پرمجبورکیا بلکہ وہ تمام علاقے واپس کروائے جومصرسے شام تک پنجہ یہودمیں آچکے تھے ۔ امریکہ کایہ اقدام عربوں کے محبت میں نہیں اٹھا تھا بلکہ شاہ فیصل کے تیل کے ترسیلی روکنے سے اپنی اوریورپ کی بدترین صورتحال کے پیش نظراٹھایا تھا۔ اسے قبل صدرنکسن نے شاہ فیصل کوبہت ڈرایاکہ تمہیں اقتصادی موت مرناہوگا توشاہ فیصل کاجواب تھا کہ ’’ہم عرب ایک اونٹ اورایک خیمے میں زندگی گزارنے کے عادی ہیںاسی پوزیشن پر واپس جائیں گے یہ گوارہ ہوگا لیکن یہ ہرگزگوارہ نہیں کہ اپنا فیصلہ واپس لیں گے‘‘تف ہے!آج کے عیاش حکمرانوں پرکہ جومسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کے چھن جانے پرکم ازکم شاہ فیصل جیساکردارنبھانے سے بھی عاری ہیں۔