لاہور(جوادآراعوان)مولانا فضل الرحمان ، انکی جماعت کی اعلی ٰقیادت کے غیر لچکدار رویے کی وجہ سے رہبر کمیٹی کی حکومتی مذاکراتی ٹیم سے بات چیت ڈیڈ لاک کا شکار ہے ،نئے انتخابات ، وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے پر اصرار سے لگتا ہے جے یو آئی کسی تصادم کی جانب جانے کا ارادہ رکھتی ہے جسکے نتائج ملک ، انکی جماعت کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ممبران نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روزنامہ 92نیوز کو بتایا ہے کہ پرویز الہی ٰکی فضل الرحمان سے متعدد ملاقاتوں کے باوجود ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جسکی وجہ فضل الرحمان اور انکی جماعت کی اعلیٰ قیادت کا غیر لچکدار رویہ ہے ، (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے سمجھدار لیڈر تو کسی قابل عمل حل کیلئے رضامند ہو سکتے ہیں لیکن جے یو آ ئی کو سارا سیاسی فائدہ پہنچنے کے خوف سے آگے نہیں بڑھ رہے ،حکومت کو یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ فضل الرحمٰن دیگر جماعتوں سے ملک گیر لاک ڈائون کا فوری پلان چاہتے ہیں ، پنجاب میں انہیں ن لیگ سے کوئی ’’پازیٹو سگنل‘‘ نہیں مل رہا،پیپلز پارٹی بھی سندھ کے حوالے سے ایسے کسی پلان کیلئے تیار نہیں، بلوچستان میں محمود خان اچکزئی ،عوامی نیشنل پارٹی نے انہیں خیبر پختونخوا کیلئے حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ دوسری جانب سکیورٹی ادارے جے یو آئی کے ممکنہ تصادم کے ارادے پر گہری تشویش رکھتے ہیں، وہ کسی انتہائی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری بھی کئے ہوئے ہیں۔