افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ہوجانے کے بعد امن کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، مگر راستے میں بڑے چیلنجزاور سپیڈ بریکر موجود ہیں۔ افغانستان کی موجودہ حکومت سے معاملات طے ہونا بھی بہت بڑا چیلنج ہے، لیکن امریکہ کا اصل درد سر طالبان کی مستقبل کی پالیسیاں ہیں ۔ا امریکہ کے جانے کے بعد طالبان کا کیا رویہ ہوگا، کیا وہ القاعدہ سے دور رہیں گے یا پرانے تعلقات عود کر آئیں گے، طالبان پولیٹیکل ونگ کی جانب سے ہونے والے معاہدوں پر ان کے فیلڈ کمانڈر اور جنگجو کس حد تک عمل کریں گے ؟سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا افغانستان ایک اور خانہ جنگی دیکھے گا؟ سوویت یونین کے جانے کے بعد کئی برسوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی جیسی ایک اور خونی جنگ۔حتمی جواب تو ظاہر ہے کسی کے پاس نہیں۔ وقت بہت سی چیزوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ اندازے البتہ لگائے جا رہے ہیں، وہ بھی اپنے اپنے ذہن کے مطابق۔ طالبان کے لئے ہمدردی رکھنے والے اپنی حساب سے رائے بناتے ہیں جبکہ طالبان مخالف حلقے اپنے مخصوص تعصبات کو تھوڑا اِدھر اُدھر کر کے اپنااندازہ، اپنا تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے تین چار دن قبل ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ فارن پالیسی میگزین نے بھی طالبان اور فیلڈکمانڈروں کی ’’مبینہ‘‘کشمکش پر ایک رپورٹ جاری کی ہے، اگرچہ اس میںخواہشات اور مبالغہ غالب ہے۔ میگزین کے مطابق کورونا وائرس نے طالبان قیادت کو متاثر کیا ہے اورشدید ہلچل پیدا ہوئی ہے۔ طالبان امیر ملا ہیبت اللہ پچھلے چند اہم میٹنگز میں شریک نہیں ہو رہے، نائب امیر سراج حقانی نے صدارت کی۔ حقانی صاحب کورونا کا شکار ہوگئے ، کئی اور ٹاپ کمانڈرز بھی۔ فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق اس خلا کا فائدہ ملا یعقوب نے اٹھایا ہے اور ان کا اثر ورسوخ افغانستان کے اٹھائیس صوبوں تک وسیع ہوگیا ہے، صرف چھ صوبے ایسے ہیں جہاں ابھی تک حقانی صاحب کی گرفت مضبوط ہے۔امریکی جریدے کی رپورٹ میںدعویٰ کیا گیا کہ ملا یعقوب اب طالبان کے مالی وسائل پر بھی دسترس حاصل کر رہے ہیں، اب تک یہ مالی معاملات طالبان کے بانی ملا عمر کے ایک معتمد ساتھی گل آغا اسحاق زئی دیکھ رہے تھے۔ اسحاق زئی قبیلے اور ملا یعقوب کے ہوتک قبیلے میں روایتی طور پر مخاصمت کی فضا موجود ہے۔ملا عمر کی وفات کے بعد ملا یعقوب گل آغا پر ناراض ہوا کیونکہ اس نے اور ملا اختر منصور نے موت کی خبر کئی سال تک پوشیدہ رکھی۔فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق ملا یعقوب فیلڈ کمانڈروں میں مقبول ہے ، ملا یعقوب کے سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اسے سعودی فنڈنگ بھی حاصل رہی ہے ۔ملا یعقوب امن مذاکرات کا حامی ہے اور سعودی بھی اسے امن کا عمل جاری رکھنے کا کہہ رہے ہیں۔ امریکی جریدے نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آگے جا کر طالبان کے اندر طاقت کی کشمکش بڑھ سکتی ہے، گل آغا اسحاق زئی ملایعقوب کی برتری قبول کر لے گا یا پھر وہ اپنے ساتھی اکٹھے کر کے اپنی پہلے والی پوزیشن واپس لینے کی کوشش کرے گی، ایسا ہوا تو خونی تصادم ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔ فارن پالیسی کی رپورٹ ایک خاص اینگل کو ظاہر کرتی ہے، اس کے مندرجات پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ طالبان کی جانب سے ویسے اس کی تردیدآئی ہے کہ ان کی قیادت کورونا کا شکار ہوئی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے البتہ اپنی رپورٹ میں مختلف زاویوں سے کور کرنے کی کوشش کی ، مخصوص امریکی تعصبات خیر اس میں بھی نمایاں ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے طالبان کی اب تک کی کامیابی کے اسباب کھوجنے کی بھی کوشش کی۔ ان کی رپورٹ کے مطابق ’’طالبان نے بہت منظم انداز میں کام کیا۔اس وقت ان کے پاس پچاس سے ساٹھ ہزار جنگجو ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں پارٹ ٹائم لڑاکے اور سہولت کار ہیں۔ طالبان نے بڑی مہارت کے ساتھ مالی وسائل اکٹھے کئے اور ایک خاص کام یہ کیا کہ مختلف سیل بنا دئیے گئے۔ ہر ضلع میں ضلعی قیادت کو مقامی سطح پر وسائل جمع کرنے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے استعمال کرنے کا اختیار دیا۔ایک بہت ہی ڈی سینٹرلائز نیٹ ورک بنایا۔، مقامی سطح پر مل جل کر مسائل حل کر یں مگر ٹاپ پر صرف ایک لیڈر، اس کے احکامات سب نے لازمی تسلیم کرنے ہیں۔ٹیکسز وغیرہ سے حاصل شدہ رقم کا بیس فیصد تک مرکزی قیادت کو بھجوایا جاتا ہے جبکہ باقی مقامی سطح پر خرچ ہوتا ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کے لئے طالبان نے بیشتر جگہوں پر ’’شیڈو گورنمنٹ ‘‘کی طرح کام کیا۔جہاں مکمل کنٹرول ہے، وہاں زیادہ کھل کر اور جہاں صرف اثرورسوخ ہے، وہاں بھی کسی نہ کسی حد تک لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔ تعلیم، صحت کے لئے کمیٹیاں بنائیں جو سکولوں، ڈسپنسریوں، ہسپتالوں کے معاملات دیکھتی اور عوامی مشکلات فوری حل کرتی ہیں، مقامی بازار پرامن طریقے سے چلائے جانے کے انتظامات کرنے کے علاوہ نجی مقدمات اور شکایات کے تصفیہ بھی کرائے جاتے ہیں۔طالبان کمانڈروں کے بقول جنگجوئوں کو باقاعدہ ماہانہ تنخواہ نہیں دی جاتی، البتہ ان کے اخراجات پورے کئے جاتے ہیں، کچھ جیب خرچ، موٹرسائیکل کے لئے پٹرول اور سفر ی خرچ۔جہاں کنٹرول زیادہ ہے، وہاں طالبان کمانڈر اور بیشتر جنگجو گزراوقات کے لئے کوئی اور کام کرتے ہیں۔ ہلمند میں ایک طالبان کمانڈر رپورٹر سے ملنے پہنچا تو اس کے کپڑے غبار آلود تھے۔ اس نے بتایا کہ میں صبح سے آٹے کی چکی پر کام کر رہا تھا جو میری آمدنی کا اصل ذریعہ ہے۔ ‘‘ایک دلچسپ بات امریکی اخبار نے بتائی کہ طالبان نے اپنی پرانی قدامت پسندانہ سوچ میں کچھ تبدیلی پیدا کی ہے۔ ہلمند صوبے کے ایک علاقہ علی نگر کی مثال دی کہ طالبان کی زیرنگرانی چلنے والے ستاون سکولوںمیں سے سترہ گرلز سکول ہیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں طالبان پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے گرلز سکول بند کر دئیے تھے۔ اخبار کے مطابق اب بھی چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا رہی۔ امریکی اخبار نے الزام لگایا کہ امریکی افواج اور افغان افواج سے گوریلا جنگ کے دوران طالبان قیادت کو پاکستان میں پناہ ملی۔ انہیںمحفوظ پناہ گاہیں فراہم کی گئیں تاکہ وہ لڑائی کی تباہ کاری سے بچے رہیں۔ اسی وجہ سے اتنی طویل جنگوں میں نچلی سطح کے جنگجو اور مقامی کمانڈر نشانہ بنتے رہے، مگر طالبان قیادت بڑی حد تک محفوظ رہی ، جس کافائدہ یہ ملا کہ تنظیم میں انتشار نہ پیدا ہوا اور لڑائی میں تسلسل قائم رہا۔ نیویارک ٹائمز کے رپورٹروں نے کئی طالبان کمانڈروں کے انٹرویوز بھی کئے۔ طالبان کمانڈروں نے انہیں بتایا کہ اس جنگ میں طالبان کو بڑی قربانیاں دینا پڑیں مگر چونکہ وہ جہاد کر رہے تھے، اس لئے نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایسا بھی ہوا کہ ایک بھائی شہید ہوا تو دوسرے بھائی نے اپنے آپ کو لڑائی کے لئے پیش کر دیا۔طالبان کی کامیابی کی ایک وجہ ریکروٹنگ کے عمل کا مسلسل جاری رہنا بھی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں امریکہ کے شدید فضائی حملوں اور افغان فوج کی کارروائیوں سے طالبان کا خاصا نقصان ہوا، مگر دبائو کے ان لمحات میں بھی ریکروٹنگ جاری رہی۔ اس کی وجہ واضح تھی۔ طالبان کی جنگ امریکہ جیسے سامراج کے خلاف تھی جس کی فوجیں افغانستان میں موجود ہیں۔ اس کے امیرملا ہیبت اللہ اخوندزادہ قربانی دینے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے،اپنا بیٹا انہوں نے ایک خود کش حملے کے لئے بھیجا۔ اس کے مقابلے میں افغان حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کر رہی تھی جبکہ ان کے بیشتر عہدے داروں کی اولاد بیرون ملک عیش کر رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے مختلف تھنک ٹینکس کے تجزیہ کاروں اور ماہرین کے ذہن میں پلنے والے دو سوالات کا ذکر کیا ہے۔کیا ملا برادر کو طالبان کے پولیٹیکل ونگ پر کنٹرول حاصل ہے؟ دوسرا یہ کہ کیا امریکہ کے جانے کے بعد طالبان داعش اور القاعدہ کے خلاف رہیں گے؟ اخبار نے بعض امریکی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ جب طالبان نے داعش کے خلاف بھرپور کارروائیاں کیں تو صدر ٹرمپ کی طالبان کے بارے میں رائے بہتر ہوئی ، تاہم القاعدہ کے حوالے سے طالبان نے کسی قسم کا منفی بیان نہیں دیا نہ انہیں دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ اس نکتے پر مذاکرات تعطل کا شکار بھی رہے۔ طالبان نے صرف یہ وعدہ کیا کہ مستقبل میں افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ نیویارک ٹائمز نے بعض ذرائع سے یہ بتایا کہ مذاکرات کرنے والے طالبان لیڈر بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے فیلڈ کمانڈروں تک سے مشاورت اور انہیں اعتماد میں لے کر آگے چل رہے ہیں۔وہ ہر اہم بات پاکستان اور افغانستان میں موجود طالبان لیڈروں تک لے جاتے ہیں، جبکہ واٹس ایپ پر وہ نچلی سطح کے لوگوں سے بھی رابطے میں ہیں۔ نماز کے وقفے میں ان کے موبائل فون پر مسلسل واٹس ایپ میسجز آتے رہتے ہیں۔ ایک اور اہم نکتہ رپورٹ میں مختلف طالبان کمانڈروں کے حوالے سے بیان کیا گیا،’’ ہماری تمام تر جدوجہد اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے ہے ، اگر موجودہ سسٹم ، یہ مغربی سسٹم باقی رہا تو پھر اتنی قربانیوں کا کیا فائدہ؟موجودہ افغان حکومت غیر ملکی فنڈنگ، غیر ملکی ہتھیاروں اور پیسوں پر کھڑی ہے۔ اسلامی نظام قائم نہ ہونے تک جہاد جاری رہے گا۔‘‘ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ طالبان صرف اقتدار کے لئے سمجھوتا نہیں کریں گے، موجودہ افغان سسٹم کو بدلنا ان کی مجبوری ہے، مغربی پارلیمانی جمہوریت کا بھی متبادل تلاش کریں گے۔