لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر تجزیہ کار رہارون الرشید نے کہا ہے طیارہ حادثے کی رپورٹ پبلک ہونی چاہئے ،پورا ملک سوگوار ہے ،ارشد ملک کا میرے دل میں بہت احترام ہے ، لمبے عرصے کے بعد ایسا شخص آیا جس نے پی آئی اے کا خسارہ کم ،مافیاز کا مقابلہ کیا،بہت سی خرابیاں دور کیں،ہم ان کی رائے سے متفق نہیں کہ جہاز ٹیکینکل طور پر بالکل ٹھیک تھا ،اگر جہاز ٹیکنیکل طور پر ٹھیک تھا تو اس کے لینڈنگ گیئر کیوں نہیں کھلے ۔پروگرام مقابل میں اینکر پرسن ثروت ولیم سے گفتگو میں انہوں نے کہا پی آئی اے بیمار ادارہ ہے ،ضیا الحق کے طیارے کے حادثہ کے وقت جو 4آدمی پکڑے گئے تھے وہ چاروں بھارت سے آئے تھے ،کراچی اور لاہور ائیر پورٹ کے قریب بھی آبادیاں ہیں،ائیرپورٹ کے قریب زمین بہت قیمتی ہوتی ہے ، اگر تحقیقات کرنی ہے تو متعلقہ محکموں کے جو لو گ ہیں ان کو الگ اور معطل کیا جائے ،لوکل تحقیق پر کسی کو بھروسہ نہیں، پاکستان بننے کے بعد ان کے 83حادثے ہوئے مگر ائیرفورس کے 22ہوئے ،چار گنا تناسب کیوں ہے ۔ٹرین کا حادثہ ہو تو ڈرائیور پر ڈال دیا جاتا ہے ، جہاز کا حادثہ ہو تو پائلٹ پر ڈال دیا جاتا ہے ،انکوائری پر اثر انداز ہونے والے متعلقہ لوگوں کو معطل کیا جائے اور تحقیقات کیلئے باہر سے لوگ بلائے جائیں۔اتنا بڑا جانی نقصان ہوا تو امید ہے رپورٹ بھی ٹھیک آئے گی۔یہ وہ ادارہ ہے جس میں ن لیگ ا ور پیپلز پارٹی نے بے تحاشا سفارشی لوگ بھرتی کئے ،اسلام آباد ائیر پورٹ بنا جس کی چھتیں ٹپکتی ہیں ۔ جہانگیر ترین کہتے ہیں مجھ پر یہ الزام درست نہیں کہ میں کم قیمت ادا کرتا رہا ہوں،ابھی تو رپورٹ ہے ،اس پر انکوائری ہوگی اور معاملہ عدالتوں میں جائیگا،اس رپورٹ میں کونسی ایسی چیز ہے جو ہمیں معلوم نہیں تھی ،چینی کی اجازت تو وزیر اعظم اور کابینہ نے دی،اکنامک کوآرڈی نیشن کمیٹی نے کیوں اجازت دی،ان کا ذکر کیوں نہیں، یہ تو نامکمل رپورٹ ہے ،عثمان بزدار کہتے ہیں مجھے یا د ہی نہیں ، 3ارب روپے کا معاملہ ہے ،جتنی بحث ہوئی ہے اس میں تو بھولی ہوئی بات بھی یاد آجاتی ہے ،کون سا سیکٹر ہے جس میں ایسا نہیں ہورہا،عمران خان اس معاملے میں داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے چینی کی رپورٹ چھاپ دی،جتنے بڑے جرائم پیشہ ہیں ان کے بڑے بڑے وکیل ہیں،آصف زرداری کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ بہت سے منصوبوں میں حصے دار ہوتے ہیں،ا نہوں نے پولیس نہ عدالت ٹھیک کرنی ہے ،نیب اورعدالتوں کا حال بھی ہمیں معلوم ہے ، تاریخیں پڑتی چلی جاتی ہیں،چینی سبسڈی کے معاملے پر اپوزیشن بھی تو ذمہ دار ہے ،29ارب روپے جو شریف خاندان نے دئیے ،85سے جو ایک خاندان حکومت میں تھا وہ کیسے فیکٹریاں لگا سکتے تھے ،کیا حکمرانوں کا کام کاروبار کرنا ہوتا ہے ،اگر عمران خان اصول پسند ہیں تو عثمان بزدار سے کہیں بیٹا گھر جائو،اگر چینی پر عمران ذمہ دار ہیں تو کیا نوازشریف اور شہبازشریف ذمہ دار نہیں ،ادویات کے سکینڈل پر عمران خان نے کچھ بھی نہیں کیا،ان کا کوئی ارادہ بھی نظر نہیں آرہا۔اختر حسین پر2001 سے 2004تک 3مقدمات تھے ، انہوں نے عدالت میں سرٹیفکیٹ جمع کرایا کہ میں فوت ہوچکا ہوں اوروہ ابھی تک چل رہا ہے ،اس کے ساتھ کرپشن میں جو دوسرے لوگ ہیں وہ بہت بارسوخ آدمی ہیں ،ان کو سزا ہوگئی یہ بچ گئے ۔الزام یہ ہے اور خان صاحب اس کی تحقیقا ت کروائیں کہ جس ڈیٹ سے انہیں مقرر کیا گیا اس وقت تو وہ ملک میں ہی نہیں تھے ،ڈاکٹر ظفر مرزا کے مالی اختیارات سلب کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ایف بی آر کو تشکیل نو کے بغیر ٹھیک نہیں کیا جاسکتا،ڈریپ سے بندے نکالے بغیر ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کی بات ٹھیک ہے لوگ کیوں نہیں ماسک پہنتے ،کاروبار بند رکھنے کا یورپ اور امریکا بھی متحمل نہیں،اچھی خبر یہ ہے کہ کوروناپر ستمبر میں آکسفورڈ والی دوا بننا شروع ہوجائے گی،چینی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم نے ویکسین بنا لی تو دنیا کو مفت دینگے ،ہمارے ہاں بھی نومبر دسمبر تک دستیاب ہوگی، جب ڈیتھ ریٹ بڑھے گا تو لاک ڈائون لگے گا۔فواد چودھری کو فساد کا بہانہ چاہئے ،وزیر اعظم سے کہیں کہ رویت ہلال کمیٹی تو ڑدو، کمیٹی میں تمام مکتبہ فکر کے علما ہیں،کسی دوسرے ادارے میں مداخلت کی کیا ضرورت ہے ،مفتی پوپلزئی نے تو کبھی قوم کے ساتھ عید کی ہی نہیں،وہ ریاست کے باغی ہیں ۔ خشوگی کے بیٹے نے باپ کے قاتلوں کو معاف کردیا،کیاجمال خشوگی کا خاندان ملک چھوڑ کر چلا جائے ، امریکا نے ہائوس آف سعود سے ہاتھ اٹھا لیا ،آپ ﷺ نے کہا تھا شام بگڑ گیا تو سب کچھ بگڑ جائے گا۔