واشنگٹن( ندیم منظور سلہری سے ، این این آئی ) امریکہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود و دیگر دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ان پابندیوں کا ہدف حماس، القاعدہ، داعش اور ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب سے منسلک افراد ہیں۔ نائن الیون کی 18 ویں برسی کے موقع پر یہ پابندیاں صدر ٹرمپ کے ایکزیکٹو آرڈر کے تحت لگائی گئی ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیاہے ۔یاد رہے نور ولی محسود کی قیادت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان بھر میں متعدد ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے مفتی نور ولی محسود نہ صرف پاکستان میں سینکڑوں افراد کا قاتل ہے بلکہ وہ افغانستان میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملے کرتا رہا ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ پر پابندیوں کا خیر مقدم کیا ہے ۔امریکی وزیر خزانہ سٹیومنوچن کا کہنا ہے کہ نائن الیون حملوں کے بعد سے ٹرمپ حکومت نے کسی بھی نئے چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے اہم اقدامات اٹھائے ہیں، نئی پابندیاں اسی کی ایک اہم کڑی ہیں۔ پابندیوں کی لسٹ میں ترکی میں مقیم حماس کے مالی امور کے سربراہ ظاہر جبرین اور القدس فورس کے چیف سعید آزادی بھی شامل ہیں ۔ان کے علاوہ برازیل میں مقیم القاعدہ کا رکن اور ملاوی کاباشندہ بھی شامل ہے جو داعش کی افغانستان میں شاخ کیلئے بھرتیاں کرتا ہے ۔ فلپائن میں مقیم داعش سے منسلک ایک کارندہ بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے ۔افراد کے ساتھ ساتھ کئی منی ایکس چینجرز اور جنوبی ترکی میں ایک جیولری کمپنی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔پابندیوں کا مطلب ہے کہ اس حکمنامے کی زد میں آنے والوں کی امریکہ میں موجود جائیدادیں ضبط کی جا سکتی ہیں اور امریکیوں کو عمومی طور پر ان کے ساتھ کاروبار کرنے کی ممانعت ہو گی۔