انور عزیز چودھری اللہ کو پیارے ہو گئے‘ چودھری صاحب سے میری ملاقات 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات سے قبل بزرگ صحافی نذیر ناجی صاحب کے توسط سے ہوئی ۔روزنامہ جنگ میں ناجی صاحب ایڈیٹر رپورٹنگ ڈیسک تھے اور میں ایک نوآموز رپورٹر‘ نذیر ناجی صاحب نے ہدایت کی کہ انور عزیز چودھری صاحب کبھی کبھار بیان بھیجیں تو فائل کر دیا کرو‘ بھٹو دور میں انور عزیز چودھری ایک دور اندیش سیاست دان کی شہرت کما چکے تھے‘1970ء کے الیکشن کے دوران نارووال کے ایک حلقے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک سلیمان نے چودھری صاحب کو شکست دی تھی مگر قائد عوام نے اقتدار سنبھالا تو شکست خوردہ چودھری انور عزیز خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر سرکاری منصب حاصل کرنے میں کامیاب رہے جبکہ ملک سلیمان پیپلز پارٹی سے دیرینہ وابستگی کے باوجود معتوب ٹھہرے ‘یہی ملک سلیمان تھے جن کی معمر اہلیہ اور بیٹیوں کی تھانے میں تذلیل کی گئی ‘قصور ملک سلیمان کا یہ تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کے منشور سے انحراف پر کسی محفل میں قائد عوام سے زبانی کلامی اختلاف کی جسارت کر بیٹھے تھے۔ 1985ء میں غیر جماعتی اسمبلی کی حلف برداری کے بعد جنرل ضیاء الحق مرحوم نے ارکان اسمبلی کو صوبہ وار آرمی ہائوس بلایا اور مستقبل کے قائد ایوان کے بارے میں اپنے حسن انتخاب سے آگاہ کیا‘ پنجاب کے ارکان کو فوجی سربراہ نے جب بتایا کہ وہ 23 مارچ کو وزیر اعظم کے طور پر سندھ کے نیک نام سیاستدان محمد خان جونیجو کی نامزدگی کا ارادہ رکھتے ہیں تو انور عزیز چودھری غالباً پہلے شخص تھے جو ملتجی ہوئے کہ ارکان اسمبلی کو اپنا قائد ایوان نامزد کرنے کا حق دیا جائے‘ انور عزیز چودھری کا انداز گفتگو اگرچہ شائستہ تھا مگر جنرل ضیاء کو ناگوار گزرا اور انہوں نے چودھری صاحب سے کہا کہ آپ انتخابی قوانین کے مطابق نااہل ہو چکے ہیں ‘آپ کو رائے دینے کا حق نہیں‘ وجہ یہ بتائی کہ چودھری صاحب نے سینٹ کے انتخاب کے لئے صاحبزادہ یعقوب علی خان اور مولانا کوثر نیازی کے کاغذات نامزدگی بطور تجویز کنندہ یا تائید کنندہ دستخط کئے ہیں‘ 1984ء کے لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت جس کی ممانعت تھی ‘ایک رکن اسمبلی صرف ایک نامزدگی کی حمایت کر سکتا تھا۔ چودھری صاحب کی حالت دیدنی تھی‘ مزید بحث کئے بغیر اپنی نشست پر بیٹھ گئے‘ اب حمزہ صاحب کی باری تھی‘ ضیاء الحق مرحوم حمزہ صاحب کے دیرینہ مداح اور قدر دان تھے‘ حمزہ صاحب نے سب سے پہلے تو انور عزیز چودھری کی طرح وزیر اعظم کے انتخاب کا حق ارکان اسمبلی کو دینے کا مطالبہ کیا‘ پھر اس بات پر احتجاج کہ ایک معزز نومنتخب رکن اسمبلی کی بات صدر نے توجہ سے سننے کے بجائے نااہلی کا مژدہ سنا دیا‘ ضیاء الحق ہلکے سے مسکرائے اور بولے ویسے سچی بات ہے ‘حمزہ صاحب نااہل تو آپ بھی ہو چکے ہیں‘ حمزہ صاحب گھبرائے بغیر بولے’’مگر میں نے کسی کے کاغذات نامزدگی پر دستخط نہیں کئے‘‘ بجا مگر آپ کی اہلیہ محترمہ سرکاری ملازم ہیں ’’جنرل ضیاء الحق بولے‘‘ انتخابی قوانین کے تحت میاں بیوی میں سے کسی ایک کے سرکاری ملازم ہونے کی صورت میں دوسرے کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل نہ تھا‘دونوں معزز ارکان نشستوں پر بیٹھ گئے ‘کسی تیسرے رکن کو جونیجو صاحب کی نامزدگی اور ضیاء الحق کے انداز نامزدگی پر اعتراض یا احتجاج کی ضرورت جرأت نہ ہوئی‘ البتہ توہین اکثریت نے محسوس کی۔ آرمی ہائوس میں مختلف صوبوں کے ارکان اسمبلی جنرل ضیاء الحق سے ملاقاتیں کر رہے تھے جبکہ نومنتخب ارکان کا ایک گروہ مسلم لیگ سے وابستہ محمد خان جونیجو کی بطور وزیر اعظم اور خواجہ محمد آصف کے والد گرامی خواجہ محمد صفدر کی بطور سپیکر قومی اسمبلی نامزدگی پر سیخ پا تھا کہ دونوں مناصب ایک کالعدم جماعت کے سابق وابستگان کو سونپے جا رہے ہیں‘انور عزیز چودھری اور حمزہ صاحب سے صدر کے حسن سلوک نے جلتی پر تیل کا کام کیا ‘مشتعل گروہ کے ارکان سیدہ عابدہ حسین کے گھر جمع ہو کر سوچ بچار کرنے لگے۔ خواجہ صفدر چونکہ مجلس شوریٰ کے چیئرمین رہے تھے ‘ارکان اسمبلی کا خیال تھا کہ ان کے سپیکر بننے سے اپوزیشن کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ نئی منتخب پارلیمنٹ کی حیثیت ضیائی مجلس شوریٰ کی ہے لہٰذا کم از کم نیا سپیکر کوئی دبنگ اور جنرل ضیاء الحق کے اثرورسوخ سے آزاد شخص ہونا چاہیے۔ بی بی عابدہ حسین کے گھر ہونے والے اجلاس میں سید فخر امام‘ جاوید ہاشمی‘ حاجی سیف اللہ خان‘ ڈاکٹر شفیق چودھری‘ ڈاکٹر شیر افگن‘ عبدالحمید جتوئی‘ طارق چودھری‘ الٰہی بخش سومرو‘ احمد میاں سومرو‘ ظفر اللہ جمالی‘پیش پیش تھے‘ انور عزیز چودھری اجلاس میں اگرچہ شریک تھے اور علاقائی سیاست میں خواجہ صفدر کے حریف کی حیثیت سے ضیاء الحق کے نامزد امیدوار کی شکست کے خواہش مند مگر ضیاء الحق کے خلاف بغاوت میں قائدانہ کردار ادا کرنے والوں میں چودھری صاحب شامل نہ تھے چنانچہ محمد خان جونیجو نے وزیر اعظم بننے کے بعد پنجاب سے جن ارکان کو کابینہ کا رکن بنایا ان میں چودھری صاحب شامل تھے‘ اگر وہ خواجہ صفدر کے خلاف مہم چلانے والوں میں پیش پیش ہوتے یا سید فخر امام کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتے تو جونیجو صاحب انہیں اپنی کابینہ میں شامل کرتے نہ ضیاء الحق انہیں ایسا کرنے دیتے‘ جاوید ہاشمی اور طارق چودھری کو جنرل ضیاء الحق بہت پسند کرتے تھے‘ حلف برداری سے ایک روز قبل جنرل صاحب نے جاوید ہاشمی کو وزارت ملنے کا مژدہ سنایا تھا مگر سید فخر امام کی حمایت کی پاداش میں معتوب ٹھہرے‘ سرکاری پارلیمانی پارٹی کے مقابلے میں آزاد پارلیمانی پارٹی وجود میں آئی تو اس کے سربراہ حاجی سیف اللہ خان تھے اور سیکرٹری ڈاکٹر محمد شفیق چودھری جبکہ عبدالحمید جتوئی‘ انور عزیز چودھری سرکاری پارلیمانی پارٹی اور کابینہ کا حصہ۔ بی بی عابدہ حسین کے بجائے فخر امام کے نام قرعہ فال کیسے نکلا اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے امیدوار خواجہ صفدر کو فخر امام نے کیسے شکست سے دوچار کیا یہ الگ داستان ہے۔ 1985ء کے بعد انور عزیز چودھری صاحب سے ملاقاتیں نہ ہونے کے برابر رہیں ‘ایک بار اسلام آباد کے ایک ریستوران میں کھانا کھا رہے تھے کہ چودھری صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ علیک سلیک کے بعد حافظ عبدالخالق مرحوم نے جو ان دنوں ایک مقبول مقامی اخبار کے چیف رپورٹر تھے چودھری صاحب سے پوچھا کہ اکبر علی بھٹی مرحوم اخبار شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہاڑی سے تعلق کی بنا پر مجھے اپنے اخبار میں اہم منصب دینے کے خواہش مند‘ میں ان کی پیشکش قبول کروں یا نہیں؟ چودھری صاحب نے کہا بالکل نہیں! کسی بھی سیاسی پارٹی‘ کاروباری ادارے اور اخبار کی پہلی ٹیم ہمیشہ جلد رخصت ہو جاتی ہے اور اس کی ریاضت کا پھل بعد والے کھاتے ہیں‘ اپنی مثال دی کہ 1970ء میں پی پی پی کی انتخابی کامیابی میں جن لوگوں کا کردار تھا وہ جلد رخصت ہو گئے اور پھل میرے جیسے بعد میں آنے والوں نے کھایا‘ آخری ملاقات اڑھائی سال قبل میاں شہباز شریف حکومت کے وزیر چودھری محمد شفیق کے گھر میں ہوئی‘ مشتاق چودھری امریکہ سے آئے تھے اور شفیق صاحب نے ان کے اعزاز میں پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا تھا‘ چودھری صاحب عادت کے برعکس زیادہ بولے نہیں خاموش رہے‘ اس تجزیے سے اتفاق کیا کہ 2018ء کے انتخابات عمران خان جیت رہے ہیں‘ مسلم لیگ (ن) کا کوئی انتخابی مستقبل نہیں‘ مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک انور عزیز چودھری تعلقات بنانے اور نبھانے کے فن میں طاق تھے اور سیاست میں وضعداری کے قائل۔ کبھی کسی سیاستدان کا بُت دل میں سجایا نہ کسی سیاسی وابستگی کو مسلک اور عقیدے کا درجہ دیا ۔عملیت پسند انسان کی طرح حالات اور وقت کے تقاضوں کے مطابق سیاسی وابستگی اختیار کی اور بوقت ضرورت علیحدگی میں دیر نہ لگائی‘ سیاست میں قبائلی وفاداری کے قائل نہ تھے کہ سردار خواہ قبیلے کی تباہی پر تل جائے اس کی ہٹ دھرمی اور جہالت کا ساتھ دینا قبائلی بلکہ مذہبی فریضہ ہے۔ اپنی سیاسی میراث بروقت صاحبزادے دانیال عزیز کو سونپ کر عملی سیاست کو خیر باد کہا اور آخری عمر پوتوں‘ نواسوں سے اٹھکھیلیاں کرنے کے لئے وقف کر دی۔ کسی کو یہ موقع نہ دیا کہ وہ انہیں سیاست کا پیر تسمہ پا کہہ سکے۔