لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ نوازشریف کو علاج کیلئے باہر جانے دینے کا بہت ہی اچھا فیصلہ ہے ، اس سے بزنس مین میں اعتماد پیدا ہوگا تھوڑی کشیدگی بھی کم ہوگی جبکہ شہبازشریف فیصلے کے بعد زیادہ طاقتور ہونگے ۔اس وقت شہبازشریف آگے اور مریم پیچھے ہٹ رہی ہیں جبکہ نوازشریف شدید بیماراور اندر سے ٹوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان 100 نمل کالج، درجنوں شوکت خانم ہسپتال بنا سکتے ہیں لیکن ملک نہیں چلا سکتے ہیں کیونکہ ان میں یہ صلاحیت نہیں۔ وہ خواب دکھاتے ہیں، نواز شریف کو علاج کیلئے باہرجانے کی اجازت دے دی اور حکومت کو پتہ نہیں یہ نہیں ہوسکتا، میرے نزدیک بات ہوگئی ہے لیکن کوئی بھی خطرہ مول لینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ شہباز شریف اور مریم نواز بھی جائیں گے ا ورمیں یہ بتا دیتا ہوں کہ ان کے بعد آصف زرداری بھی جائیں گے ۔ یہ سب چلے جائیں گے اور یہاں امن ہوگا۔ بات طے پاگئی ہے تاہم دھرنا ختم نہیں ہوگا، لوگ نہیں اٹھیں گے یہ سردی ان کے لئے معنی نہیں رکھتی ہے ان کا نہ اٹھنا بھی ڈیل کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر شورش رہی اورکشیدگی ختم نہ ہوئی تو مارشل لا لگے گا حالات اس طرف جارہے ہیں، مولانا کو حالات کی نزاکت کا احساس کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مولانا ابھی تو بہت سے مطالبات منوائیں گے ، انہوں نے تھوک کا سودا کیا ہے وہ بہت ہی زبردست سیاست دان ہیں۔ وہ اثرورسوخ والوں سے بات چیت چاہتے ہیں۔انہوں نے ایک بات منوالی نوازشریف چلے گئے ان کے مطالبے کے مطابق زرداری صاحب چلے جائیں گے ۔ عمران خان وسیع تناظر میں نہیں اپنی ذات کے حوالے سے خود کو دیکھتے ہیں وہ تو اچھی کرکٹ ٹیم بھی نہیں بناسکتے ہیں ان سے بہتر تو نجم سیٹھی نے اچھی ٹیم بنائی۔ چیئرمین پنجاب سکھ سنگیت گوپال سنگھ چاؤلہ نے کہا کہ ہم عمران خان ، آرمی چیف جنرل باجوہ اورسدھو کی وجہ سے ہمارا خواب پورا ہونے جا رہا ہے ، اسوقت جالندھر اورامرتسرکے گھروں اور چوراہوں میں عمران خان ک ہورڈنگز اورپاکستان کے جھنڈے لہرارہے ہیں کرتار پور راہداری بھارت کے منہ پر بہت بڑا طمانچہ ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ بھارت نے یہ شرط رکھی تھی کہ گوپال چاؤلہ کو نکالو گے تو ہم کرتارپور کوکھولیں گے یہی انہوں نے سدھو کے ساتھ کیا وہ سکھوں کا ہیرو بن گیا ہے ۔