اسلام آباد(اظہر جتوئی)وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے جنرل سیلز ٹیکس 5 فیصد کم کرنے پر غور شروع کر دیا،اس سلسلے میں ایک جامع پروگرام تیار کیا جارہا ہے ۔ذرائع کے مطابق سابق حکومتوں کے دور میں 14 فیصد سے شروع ہونے والا جی ایس ٹی اس وقت تقریباً 20 فیصد تک پہنچ چکا ہے ۔ اگر آپ مارکیٹ سے 300 روپے مالیت کا کوئی شیمپو خریدتے ہیں تو حکومت اس پر کم و بیش 60 روپے جی ایس ٹی کی مد میں کمپنی سے وصول کر چکی ہوتی ہے ،کھانے پینے کی اشیا میں یہ ٹیکس 17 فیصد تک ہے اور الیکٹرانکس اشیااور موبائل فونز میں یہ ٹیکس 20 فیصد کی حد کو بھی عبور کر گیا ہے ۔ ستمبر 2014ء سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 فیصد تک کمی ہوئی جس کا ریلیف ہر ملک کی حکومت نے اپنے عوام تک پہنچایا مگر پاکستان میں معاملہ مختلف ہے ۔ سابق حکومت دھرنوں اور احتجاج کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہلکی پھلکی کمی کر کے عوام پر احسان کرتی رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے ایک جامع پروگرام بنانے کا فیصلہ کیا ہے ، پہلے مرحلے میں یارن ( دھاگے ) کی تیار ی پر عائد سیلز ٹیکس کو 10فیصد سے کم کر کے 5فیصد کر دیا جائے گاجس کا جلد نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائیگا ،ملک میں سیلز ٹیکس دینے والے صرف 41ہزار افراد ہیں جبکہ صنعتی و کمرشل صارفین کی تعداد ساڑھے 3 لاکھ سے زائد ہے ۔ حکومت سیلزٹیکس کی شرح کوآئندہ چند برسوں میں 17فیصد سے کم کر کے ساڑھے 12فیصد کرنے کے پروگرام پر کام کررہی ہے ۔