بغداد ، نیو یارک (این این آئی، نیٹ نیوز، آن لا ئن ) عر اق میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ گز شتہ روز بھی جاری رہا ۔ سکیو رٹی فورسز کی فا ئر نگ سے مزید 10افراد ہلاک ہو گئے ۔جھڑپوں کے دوران 35مظاہرین زخمی بھی ہو گئے ۔شمالی عراق میں ترک فضائی حملوں میں 6 جنگجو د ہلاک کر دیئے گئے ۔تفصیلات کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے بغداد میں 6 اور بصرہ میں 4 مظاہرین کو موت کی نیند سلا دیا ۔ بغداد میں پولیس اور طبی ذرائع نے بتایا کہ سکیو رٹی فورسز کی فائرنگ سے دارالحکومت کے وسط میں کم از کم 6 مظاہرین ہلاک ہو گئے ۔ الشہداء پْل کے نزدیک جھڑپوں میں 35 افراد زخمی ہو گئے ۔ عراق کے جنوب میں ام قصر بندرگاہ کے ذمے داران کے مطابق درجنوں مظاہرین نے ٹائر جلا کر بندرگاہ کا داخلی راستہ بند کر دیا۔ انہوں نے ٹرکوں کو خوراک اور دیگر سامان منتقل کرنے سے بھی روک دیا۔پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز نے مقامی حکومت کی عمارت میں جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ اور آنو گیس کے گولوں کا سہارا لیا۔ ادھر تر ک طیاروں نے شمالی عراق کے علاقوں زاپ اور متینہ پر فضائی حملے کئے ہیں جن میں 6 دہشتگرد ہلاک کر دیئے گئے ۔ ترک محکمہ دفاع کے مطابق، شمالی عراق کے علاقے زاپ پر ترک فضائیہ نے آپریشن کیا جس میں علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کے دو دہشتگرد مارے گئے ۔ دریں اثناایک دیگر علاقت متینہ پر بھی ترک فضائیہ نے بمباری کی جس میں 4 دہشتگرد ہلاک ہوئے ۔ علا وہ ازیں اقوام متحدہ نے عراق میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ سیکر ٹری جنرل انتو نیو گو ٹر یش نے کہا کہ عراق سے مظاہرین کے خلاف براہ راست گولیاں چلانے کی پریشان کن رپورٹس مسلسل موصول ہورہی ہیں۔ ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کے خلاف استعمال ہونے والے بم ایرانی ساختہ ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ باقاعدہ مظاہرین کو ہدف بنا کر نشانہ بنایا جاتا ہے ۔