اس وسیع وعریض دنیا میں انسان کو اللہ رب العزت نے ’اشر ف المخلوقات‘کی صفت سے متصف فرمایا،اب تو ایسے ہی اس مخلوق کی اہمیت وافادیت اور عزت وشرافت میں کلام کی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے ،لیکن جیسے ہی ہر شعبہ میں طبقات ہوتے ہیں ویسے ہی اس مخلوق میں بھی طبقات ہیں۔اشرف المخلوقات میں سب سے اہم ترین،باعظمت وعزت،صاحب جاہ وجلالت،انبیا کی ذات مقدس ہے کہ ان سے بڑھ کر تو کجا ان کے مرتبہ کے کروڑوں درجہ کیے جائیں ان میں ایک درجہ کے پھر کروڑوں درجہ کیے جائیں ان میں سے ایک درجہ کے برابر بھی کوئی نہیں پہنچ سکتا ہے ،اس کے بعد اصحاب کرام کا رتبہ ہے ‘صحابی وہ ہے جس نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ظاہری میں آپ کے دیداراور صحبت مبارک سے ایمان کی حالت میں شرف یاب ہوا ہو،ان نفوس قدسیہ میں ہر ایک انسانی راہ نمائی کا کامل واکمل اور مکمل دستور ہے ،اسی لیے آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ میرے اصحاب ستاروں کے مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کروگے راہ یاب ہوجاؤگے ‘‘ہر ایک کی الگ الگ خصوصیات ہیں،انھیں میں سے ایک تابندہ ستارہ غسیل الملائکہ حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہستی ہے آپ قبیلہ اوس کے خاندان عمرو بن عوف کے ابو عامر کے شہزادے تھے ،ابو عامر قبیلہ اوس کے نہایت ہی بااثر ورسوخ اور شرفا میں سے ایک تھے آپ کی والدہ عبداللہ بن ابی کی ہمشیرہ تھیں ۔ابو عامر کو راہ نمائی اور قیادت کی خصوصیات سے اللہ تعالیٰ نے وافر مقدار میں حصہ عطا کیا تھا،وہ نہ یہ کہ صرف بعثت نبوی کا قائل تھا بلکہ لوگوں کو دعوت بھی دیتا لیکن جب آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد ِگرامی ہوئی اس وقت تک آپ کا والد ’راہب‘کی شکل میں ایک مقبول ترین را ہ نما ہوچکا تھا،اپنی قیادت کے سامنے کسی اور کی قیادت تسلیم کرنے کا مادہ ختم ہوچکا تھا،ساتھ ہی ابن ابی بھی،دونوں کو اپنی سرداری خطرے میں معلوم ہونے لگی تھی ،ان میں سے ایک ابن ابی نے تو منافقت کرکے مدینہ کو ہی اپنا مسکن بنائے رکھا البتہ ابو عامر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور وہ مدینہ طیبہ سے راہ فرار اختیار کرکے مکہ چلا گیا،غزوہ احد میں کفاران مکہ کے ساتھ جوش حسد میں ابو عامر بھی آیا، اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے ’فاسق‘کا لفظ استعمال فرمایا،ابو عامر کو اب تاریخ اسلام اسی لفظ سے جانتی ہے ، یہ وہ بدترین شخص تھا جس کی سازش سے مسجد ضرار تعمیر کی گئی تھی،اسی نے غزوہ احد میں وہ گڑھے کھدوائے تھے جن کو گھاس پھوس سے ڈھانپ دیا گیا تھا‘جنگ حنین تک جتنی بھی لڑائیاں ہوئیں سب میں اس اسلام دشمن شخص نے کفار کو اشتعال دلانے میں ایک نمایا ں کردار ادا کیا،حتیٰ کہ قیصر روم کو بھی اسی نے عرب پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا تھا لیکن ایسے بد بخت کے گھر میں حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ جیسی قابل رشک جنت ہستی کا وجود پر مسعود ہوا جس سے عالم اسلام کو ایک نئی طاقت،قوت وشہرت حاصل ہوئی،بعد فتح مکہ کے وہ وہاں سے بھی بھاگ نکلا اور ہرقل کے پاس جاکر پناہ گزیں ہوا۔ایمان کی مضبوطی ہی سب سے بڑی کرامت ہے اور ایمان کی مضبوطی پہچانی جاتی اس وقت جب کہ اپنے غیر’کفر‘سے نفرت ظاہر ہو،حضرت حنظلہ کی ایمانی حرارت کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ آپ نے حضور مختارکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !اگر آپ اجازت دیں تو ابو عامر کو اس کے انجام تک پہنچا دوں،ٹھیک یہی سوال حضرت عبداللہ نے اپنے والد ابن ابی کے لیے کیا تھا لیکن دونوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت نہیں دی تھی،کسی سبب آپ جنگ بدر میں شامل نہ ہوسکے لیکن جنگ احد میں پوری شان وشوکت کے ساتھ شریک رہے ،خوب جاں بازی سے لڑے ،جب گھمسان کی جنگ شرو ع ہوئی،آپ کا سامنا ابو سفیان سے ہوا،آپ نے اس کے گھوڑے کی پچھلی ٹانگ کے گھٹنے پر زوردار وار کیا جس سے ابوسفیان نیچے گرگیا،چیخنے چلانے لگا،قریش سے اپنی امداد کی دہائی دینے لگا،حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کے وار سے بچانے کی بھیک مانگنے لگا قریب تھا کہ آپ ابو سفیان کو انجام تک پہنچادیتے لیکن اتنے میں ایک بدترین شخص اسود بن شعوب یا شداد بن اسود نے آپ پر نیزے سے وار کیا اورآپ کو شہادت حاصل ہوئی،یہی جنگ آپ کی پہلی اور آخری جنگ رہی۔ روایات میں آیا ہے کہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ساتھ پہلی رات میں حجلہ عروسی میں تھے کسی پکارنے والے نے پکار لگائی کہ سرکارِدوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاد کاحکم فرمایا ہے ،وہ صحابی اپنے بستر سے اٹھے اور پا بہ رکاب ہوگئے ،دلہن کہتی رہیں آج کی رات ٹھہر جاؤ،صبح جہاد پر روانہ ہوجانا،مگر وہ صحابی جو صہبا عشق میں مخمورتھے کہنے لگے اے میری رفیقہ حیات! مجھے جانے سے کیوں روکتی ہو؟اگر جہاد سے صحیح،سلامت لوٹ آیا تو زندگی کے دن اکٹھے گزار لیں گے ورنہ کل میدان قیامت میں ملیں گے ۔ بعد شہادت چاندی کے طشت میں فرشتوں نے آپ کو غسل دیا۔ ابن حبان اور امام بیہقی وغیرہ نے بیان فرمایاکہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ تمھارے ساتھی حنظلہ(رضی اللہ عنہ) کو فرشتوں نے غسل دیا،ان کے اہل خانہ سے پوچھو ایسی کون سی بات تھی جس کی وجہ سے فرشتوں نے انھیں غسل دیا،سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کی اہلیہ محترمہ نے فرمایا کہ’’وہ ندائے جہاد سن کر حالت جنابت ہی میں روانہ ہوگئے تھے ،اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس یہی وجہ ہے کہ فرشتوں نے غسل دیا،اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام ومرتبہ کے لیے اتنا ہی کافی ہے ،اسی وجہ سے آپ کو ’غسیل الملائکہ،تقی اور عریس السما‘ جیسے القابات سے تاریخ اسلام متعارف کراتی ہے ۔ خلاصۃ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہی جذبہ ایثار آج بھی ہم اپنے اندر پیدا کرلیں تو قسم ہے اس ذات وحدہ لاشریک کی جس نے پوری دنیا کو وجود بخشا،آج بھی ہم سر بلندہوں گے اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کے وارث ہونگے ،محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین متین کو نافذ کرنے میں کامیاب وکامران ہوں گے ۔ (مآخذومراجع :سیر الصحابہ،الاصابہ، اسدالغابہ،بیہقی،سنن کبری، ابن ماجہ)