پنجاب حکومت نے غیر ترقیاتی اخراجات مستقل بنیادوں پر کم کرنے کے لئے غیر ضروری اسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بجٹ خسارہ کم کرنے کے لئے ترقیاتی منصوبے نجی سیکٹر کے ذریعے بنانے کی پالیسی واضح کی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے انتخابات سے پہلے ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر بنانے کا نعرہ لگایا تھا۔ بدقسمتی سے حکومت اپنی نصف مدت پوری کرنے کو ہے مگر 50لاکھ گھر کا وعدہ تاحال پورا نہ ہو سکا۔ پاکستان میں منصوبہ بندی کی وزارت کے ذیلی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک کروڑ سے زائد افراد کے بیروزگار ہونے کے خدشے کا اظہار کر دیا ہے۔دوسری طرف حکومت بے روزگار افراد کو احساس پروگرام کے تحت 12000روپے فراہم کر رہی ہے۔ ان حالات میںپنجاب حکومت کا سرکاری اداروں میں غیر ضروری اسامیاں ختم کرنے کے فیصلہ سے پہلے سے موجود بے روزگاری کے طوفان میں شدت آئے گی۔ اس سے مفر نہیں کہ ماضی کی حکومتوں نے سیاسی بھرتیاں کر کے معاشی طور پر سرکاری ادارے تباہ کر دیے ۔ پی آئی اے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جن افراد کو نوکریاں مل چکی ہیں ان کو بے روزگار کرنے سے لاکھوں خاندان فاقوں پر مجبور ہوں گے بہتر ہو گا حکومت لوگوں کو بے روزگار کرنے کے بجائے روزگار کے مواقع بڑھانے اور ملازمین کی کارکردگی میںبہتری کے لئے اقدامات کرے تاکہ گڈ گورننس کا وعدہ پورا ہو اور لوگوں کو روزگار میسر آ سکے۔